خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 94 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 94

خطبات مسرور جلد ششم فرماتے ہیں: 94 خطبه جمعه فرموده 29 فروری 2008 دنیاوی علوم کی تحصیل اور ان کی باریکیوں پر واقف ہونے کے لئے تقوی وطہارت کی ضرورت نہیں ہے ایک پلید سے پلید انسان خواہ کیسا ہی فاسق و فاجر ہو ، ظالم ہو ، وہ ان کو حاصل کر سکتا ہے۔چوڑھے چمار بھی ڈگریاں پالیتے ہیں لیکن دینی علوم اس قسم کے نہیں ہیں کہ ہر ایک ان کو حاصل کر سکے۔ان کی تحصیل کیلئے تقویٰ وطہارت کی ضرورت ہے۔جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَمَسُّة إِلَّا المُطَهَّرُونَ (الواقعہ: (80)۔پس جس شخص کو دینی علوم حاصل کرنے کی خواہش ہے اسے لازم ہے کہ تقویٰ میں ترقی کرے جس قدر وہ ترقی کرے گا اسی قدر لطیف دقائق اور حقائق اس پر کھلیں گے۔“ البدر جلد 3 نمبر 2 مورخہ 8 جنوری 1904 صفحہ 3) پہلی بات تو ایمان کی ہے۔ایمان کی باتیں تو ثابت ہو جاتی ہیں۔پھر اگر مزید معرفت حاصل کرنی ہے تو تقویٰ میں ترقی کرنی ہو گی۔جوں جوں تقویٰ میں ترقی کرتا جائے گا مزید پاک ہوتا چلا جائے گا۔قرآن کریم کا عرفان حاصل ہوتا چلا جائے گا۔پس قرآن کریم ان لوگوں کو جو دور کھڑے اس تعلیم کو دیکھ رہے ہیں اور اپنے بغضوں اور کینوں کی وجہ سے قریب آنا بھی نہیں چاہتے۔بلکہ دوسروں کو ورغلانے پر بھی تلے ہوئے ہیں۔شیطان کا کردار جواس نے کہا تھا کہ میں ہر راہ سے آؤں گا ، ان لوگوں نے تو وہ اختیار کیا ہوا ہے۔پس قرآن کو سمجھنے کے لئے پہلے پاک دل ہونے کی بھی ضرورت ہے اور اس پا کی میں پھر انسان آگے بڑھتا جاتا ہے۔اگر پاک دل ہوں گے تو پھر کچھ مجھ آئے گی۔پھر مزید عرفان حاصل کرنے کے لئے مزید تقوی میں ترقی کرنے کی ضرورت ہے۔تو ایک انسان کا قرآن کریم سمجھنے کے لئے یہ معیار ہے۔اب دیکھیں وہ خاتون بھی تھیں جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ قرآن کا ترجمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئیں۔پتہ نہیں اس نے ترجمہ کس کا پڑھا تھا۔کس حد تک وہ صحیح تھا لیکن بہر حال اس کے دل پر اثر ہوا۔پس قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے پاک دل ہونا اور اس میں چھپے ہوئے موتیوں کو تلاش کرنا ضروری ہے۔قریب آکر دیکھنا بھی ضروری ہے لیکن اگر ان پادری صاحب کی طرح صرف اعتراض کے رنگ میں دیکھے گا تو پھر اسے کچھ نظر نہیں آئے گا۔وہ اس جاہل کی طرح ہے جو ستاروں کو دور سے دیکھ کر انہیں چھوٹا سا چمکتا ہوا نقطہ سمجھتا ہے۔ایسے بے عقل لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم ایسے حاسدوں ، بغضوں اور کینوں سے بھرے ہوؤں اور ظالموں کو سوائے گھاٹے کے کسی چیز میں نہیں بڑھاتی۔اس میں اگر شفا ہے تو مومنین کے لئے ہے۔اگر اس میں کوئی تعلیم ہے اور سبق ہے تو مومنین کے لئے ہے۔اگر ان سے کوئی فیض پاتا ہے تو پاک دل مومن فیض پاتا ہے یا وہ فیض پانے کی کوشش کرتا ہے جو خالی الذہن ہو کر پھر اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔اگر اس سے کوئی اپنی روحانی میل دور کرتا ہے تو پاک دل مومن کرتا ہے۔قرآن کریم میں