خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 88 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 88

خطبات مسرور جلد ششم 88 خطبه جمعه فرموده 29 فروری 2008 مذاہب کے سر کردہ اس خوف سے کہ کہیں اسلام غلبہ حاصل نہ کر لے اسلام کے خلاف ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں کہ خودان کے اندر رہنے والے اپنے شریف الطبع لوگوں نے ایسے ہتھکنڈوں کے خلاف آواز میں اٹھانی شروع کر دی ہیں۔ہم یورپ میں اسلام کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو یورپ میں بسنے والے ہر شخص کی آواز سمجھ لیتے ہیں جبکہ یہ صورتحال نہیں ہے۔ہر یورپین اسلام کے خلاف نہیں ہے۔لیکن ہمارا رد عمل بہت سخت ہوتا ہے۔ان میں بھی ایسی تعداد ہے اور خاصی تعداد ہے جو ایسی حرکتوں کو پسند نہیں کرتی۔مثلاً گزشتہ دنوں جو آنحضرت ﷺ کی ذات مبارک پر حملے کئے گئے تھے اس کے خلاف ڈنمارک میں ہی وہاں کے مقامی غیر مسلموں نے آواز اٹھائی کہ یہ سب غیر اخلاقی اور انتہائی گری ہوئی حرکتیں ہیں جو کی جارہی ہیں۔انہوں نے اسی سوال کو اٹھا یا جو میں گزشتہ خطبہ میں بیان کر چکا ہوں کہ جب قاتل پکڑے گئے تو پھر کارٹونوں کی اشاعت کا کیا مطلب تھا؟ اور پھر یہ کہ بغیر مقدمہ چلائے دوکو ملک بدر کرنے ، ملک سے نکالنے کا حکم دے دیا اور ایک کو بری کر دیا۔یہ کون سا انصاف ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ اندر کوئی بات تھی ہی نہیں۔بہر حال ان میں سے آواز میں اٹھ رہی ہیں مثلاٹی وی چینلز نے ہمارے مشنریز کے انٹرویوز لئے اور اس پہ اپنا اظہار بھی کیا۔مثلاً ایک ڈینش خاتون جوٹی وی کے انٹرویو کے وقت مشن ہاؤس میں موجود تھیں ، انہوں نے ٹی وی جرنلسٹ کے سامنے کھل کر کارٹونوں کی اشاعت پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ کارٹونوں کی اشاعت سے پہلے وہ بیرون ملک وزٹ کے دوران بڑے فخر اور خوشی سے بتایا کرتی تھیں کہ وہ ڈینش ہیں مگر اب وہ اپنے آپ کو ڈینش بتاتے ہوئے شرمندگی محسوس کریں گی۔میں نے یہ رپورٹ وہاں سے منگوائی تھی۔انہوں نے لکھا ہے کہ کارٹونوں کی دوبارہ اشاعت کے نتیجے میں بالعموم ڈینش عوام میں ایک مثبت سوچ بیدار ہو رہی ہے اور اس بات کا بر ملا اظہار کرتے ہیں کہ کارٹونوں کی اشاعت محض پر دو وکیشن (Provocation) ہے۔اخبارات اور انٹرنیٹ میں اگر چہ مثبت اور منفی ملے جلے جذبات کا اظہار ہے تاہم انٹرنیٹ پر ایک مشہور گروپ ہے جس کا نام فیس بک (Face Book) ہے۔انہوں نے Sorry Muhammad کے نام سے آنحضرت ﷺ سے معذرت کا سلسلہ شروع کیا ہے جس میں اب تک چھ ہزار سے زائد افراد شامل ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد ہے جنہوں نے اپنی معذرت کا اظہار کیا ہے۔گو اس کے مقابلے پہ دوسرے گروپ بھی ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ایک صاحب نے ایک تبصرے میں لکھا ہے کہ ڈنمارک کہاں ہے؟ ایک طرف تو ہم عراق اور افغانستان میں مسلمانوں کی مدد کے نام پر فوج بھیج رہے ہیں اور دوسری طرف یہاں کارٹون شائع کر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کر رہے ہیں۔