خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 476
476 خطبه جمعه فرموده 14 نومبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ اپنی پر ہیز گاری کے لئے عورتوں کو پر ہیز گاری سکھاویں۔ورنہ وہ گناہگار ہوں گے۔اور جبکہ اس کی عورت سامنے ہو کر بتلا سکتی ہے کہ تجھ میں فلاں فلاں عیب ہیں تو پھر عورت خدا سے کیا ڈرے گی۔جب تقویٰ نہ ہو تو ایسی حالت میں اولا د بھی پلید پیدا ہوتی ہے۔اولاد کا طیب ہونا تو طیبات کا سلسلہ چاہتا ہے۔اگر یہ نہ ہوتو پھر اولا دخراب ہوتی ہے۔اس لئے چاہئے کہ سب تو بہ کریں اور عورتوں کو اپنا اچھا نمونہ دکھلا دیں۔عورت خاوند کی جاسوس ہوتی ہے، وہ اپنی بدیاں اس سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتا۔نیز عورتیں چھپی ہوئی دانا ہوتی ہیں۔یہ نہ خیال کرنا چاہئے کہ وہ احمق ہیں۔وہ اندر ہی اندر تمہارے سب اثر وں کو حاصل کرتی ہیں۔جب خاوند سید ھے راستے پر ہوگا تو وہ اس سے بھی ڈرے گی اور خدا سے بھی“۔فرمایا ” عورتیں خاوندوں سے متاثر ہوتی ہیں۔جس حد تک خاوند صلاحیت اور تقویٰ بڑھاوے گا کچھ حصہ اس سے عورتیں ضرور لیں گی۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 163-164 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ توقع ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہر احمدی مرد سے رکھی ہے۔یہ الفاظ ہمیں جھنجھوڑنے والے ہونے چاہئیں۔مردوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔پہلے تو عورتیں جاہل ہوتی تھیں، کم پڑھی لکھی ہوتی تھیں۔اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعلیم کی روشنی نے عورتوں میں بھی عقل و شعور پہلے سے بہت بڑھا دیا ہے۔جیسا کہ پہلے میں نے کہا ایسی عورتیں بھی جماعت میں ہیں اور اکثریت میں ہیں جو مردوں کی برائیوں کی وجہ سے کڑھتی ہیں یا ان کی سختیوں کی وجہ سے علیحدہ ہو کے بیٹھ جاتی ہیں۔اپنی نیکیاں قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔اور مردوں سے زیادہ بے چین اور پریشان بھی ہوتی ہیں۔ایسے بھی خاندان ہیں جہاں عورتوں کو اپنی اولاد کی فکر ہوتی ہے اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ مردوں کی جو بگڑی ہوئی حالت ہے اسے دیکھ کر عورتیں بعض دفعہ مردوں سے علیحدہ ہو جاتی ہیں اور پھر اس کے نتیجہ میں اولاد پر برا اثر پڑتا ہے۔اس ماحول میں جہاں بچوں کو خاص طور پر باپ کی سر پرستی کی ضرورت ہوتی ہے بچے جوانی میں قدم رکھتے ہیں تو بگڑنے لگتے ہیں۔تو ان سب چیزوں کے ذمہ دار مر د ہوتے ہیں۔تو ایسے مردوں کو بھی فکر کرنی چاہئے کہ کتنی بد قسمتی ہے کہ ہمارا خدا ہماری بقا اور ہماری نسلوں کی بقا کے لئے ایک دعا سکھا رہا ہے اور اللہ میاں کا دعا سکھانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کو قبول کرنا چاہتا ہے اور کرتا بھی ہے اور دعا کے الفاظ میں هَبْ لَنَا کے الفاظ استعمال کر کے یہ بتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سے کچھ نہیں لینا وہ تمہاری دنیا و عاقبت سنوارنے کے لئے ، تمہاری نسلوں کی بقا کے لئے صحیح راستے پر چلنے کے طریق سکھاتے ہوئے تمہیں انعام دے رہا ہے۔ان پر چلو گے تو انعامات کے وارث بنو گے۔لیکن ہم اس انعام سے فیض پانے والے نہ بنے۔پس ہمیں اپنے جائزے لیتے ہوئے اُن راستوں پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بنا ئیں۔اپنے گھروں کے سکون