خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 472
خطبات مسرور جلد ششم 472 (46) خطبه جمعه فرموده 14 نومبر 2008 فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2008ء بمطابق 14 رنبوت 1387 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) اللہ تعالیٰ کا ایک نام وَاهِب یا وَهَّاب بھی ہے۔اس لفظ کی مختلف اہل لغت نے جو وضاحت کی ہے اور معنی بیان کئے ہیں وہ تقریباً ایک ہیں اس لئے میں نے لسان العرب ( یہ لغت کی کتاب ہے ) نے جو معنی بیان کئے ہیں وہ لئے ہیں۔اس میں لکھا ہے کہ الْوَهَّابِ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے یعنی اَلْمُنْعِمُ عَلَى الْعِبَادِ اپنے بندوں پر انعام کرنے والا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفت وَاهِبٌ بھی ہے۔لکھتے ہیں کہ الْهِبَہ ایسا عطیہ جو عوض میں کچھ لینے یا دیگر اغراض و مقاصد سے مبر اہو اور جب ایسی عطا بہت کثرت سے ہو تو اس عطا کرنے والے کو وھاب کہتے ہیں۔یہ لفظ انسانوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے لیکن حقیقی و تاب اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو اپنے بندوں کو مانگنے پر بھی اور بغیر مانگنے پر بھی کثرت سے عطا فرماتی ہے۔ایک حقیقی مومن اگر غور کرے تو اللہ تعالیٰ کے وہاب ہونے کے نظارے، اس کی عطاؤں اور انعاموں کے نظارے ہر وقت دیکھتا ہے اور یہی بات ہمیں ہمارے زندہ خدا کا پتہ دیتی ہے۔لیکن جو انسان ناشکرا ہے اس کو اللہ تعالیٰ کی عطائیں اور فضل نظر نہیں آتے۔جو دنیا کی آنکھ سے دیکھتا ہے وہ دنیا کو ہی ان چیزوں کا ذریعہ سمجھتا ہے جو اُ سے مل رہی ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف حوالوں سے اس لفظ کا بھی استعمال فرمایا ہے اور اپنی اس صفت کا بھی استعمال فرمایا ہے۔انبیاء اور نیک لوگوں پر اپنی عطاؤں کا بھی ذکر فرمایا ہے اور اپنی صفت کے حوالے سے دعاؤں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔جس میں نیک اولاد کے لئے بھی دعائیں ہیں ، معاشرے کی نیکی کے لئے بھی دعائیں ہیں، اپنے تقویٰ میں بڑھنے کے لئے بھی دعائیں ہیں، ایمان میں مضبوطی کی بھی دعائیں ہیں۔تو مختلف دعاؤں کا ذکر ہے۔اس وقت میں ان قرآنی دعاؤں کے حوالے سے ایک پہلو کا ذکر کروں گا۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی نسل کو اپنے مقصد پیدائش کے قریب رکھنے بلکہ اس کا حق ادا کرنے کے لئے اپنے نیک بندوں کو اس طرف توجہ دلائی کہ وہ اپنی اولا د بلکہ بیویوں کے لئے بھی دعائیں کریں۔بلکہ بیویوں کو بھی کہا کہ اپنے خاوندوں اور اولاد کے لئے دعائیں کریں تاکہ نیکیوں کی جاگ ایک دوسرے سے لگتی چلی جائے اور نسل در نسل قائم رہے۔