خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 401
خطبات مسرور جلد ششم 401 (40) خطبہ جمعہ فرموده 3 اکتوبر 2008 فرمودہ مورخہ 03 اکتوبر 2008ء بمطابق 03 را خاء 1387 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: چند خطبات پہلے میں نے اللہ تعالیٰ کی صفت مھیمن بیان کی تھی اور اس کی کچھ وضاحت بیان کی تھی اس کے معنی بھی بتائے تھے جو مختلف لغات میں درج ہیں۔عموماً اس کے معنی پناہ دینے کے لئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو ہر چیز کی آخری پناہ گاہ ہے جہاں سے تحفظ ملتا ہے اور اپنے سے خالص ہو کر چھٹے رہنے والے کے لئے وہ عجیب عجیب نشان دکھاتا ہے۔اس کے معنی گواہ کے بھی کئے جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ جب اپنے بندوں ، خاص طور پر انبیاء کے لئے گواہ بن کر کھڑا ہوتا ہے تو اپنے بندوں پر لگائے گئے ہر مخالف کے الزامات اور جھوٹ کو ر ڈ کرتے ہوئے گواہ بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔اس کے معنی مخلوق کے معاملات پر نگران اور محافظ کے بھی ہیں۔اس کے معنی خوف سے امن دینے والے کے بھی ہیں اور جب اللہ تعالیٰ اپنی صفت اپنے خاص بندوں کے لئے ظاہر کرتا ہے تو اس حفاظت اور نگرانی کے خارق عادت نشان ظاہر ہوتے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے والے بھی یہ لوگ ہوتے ہیں ان پر اس کا اظہار بھی ہو رہا ہوتا ہے اور اس سے فیض اٹھانے والے بھی سب سے پہلے انبیاء ہوتے ہیں جن کے لئے خدا تعالیٰ کی ہر صفت غیر معمولی طور پر حرکت میں آتے ہوئے ان کی سچائی ثابت کرتی ہے تا کہ دنیا کو پتہ لگ سکے کہ یہ شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور پھر اس نبی کی سچائی ثابت کرنے کے لئے ان صفات کا اظہار اس کو ماننے والوں سے بھی ہوتا ہے۔اس وقت میں اس حوالہ سے جو صفت مھیمن کے وسیع معنوں میں پوشیدہ ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے چند واقعات پیش کروں گا اور اس کے ساتھ ہی بعض بزرگوں کے بھی واقعات ہیں۔جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے معجزانہ حفاظت اور نگرانی کے نظارے دکھائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ پایا وہ اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی تو جہ سے پایا اور