خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 387 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 387

387 خطبہ جمعہ فرمودہ 19 ستمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم یہی وہ لوگ ہیں جن کی بدیوں کو اللہ تعالیٰ خوبیوں میں بدل دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔پس یہ انقلاب لانے کی ضرورت ہے کہ پہلے ذہنوں کو پاک رکھنے کے لئے استغفار کے ساتھ جہاد کیا جائے۔پھر چھوٹی سے چھوٹی برائی پر بھی احساس ندامت اور شرمندگی ہو اور پھر مضبوط قوت ارادی چاہئے کہ چاہے جو بھی حالات ہوں ، جو بھی لالچ ملے برائیوں کے قریب نہیں جانا اور اپنے ہر فعل اور عمل کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کرنے کی کوشش کرنی ہے اور یہ جو روزے کے دن میسر آئے ہیں جس میں انسان برداشت اور قربانی کی ٹریننگ کی کوشش کرتا ہے اور روزے کی برکات سے فیض پانے کے لئے یہی کوشش کام آئے گی اور یہ کوشش کرنی چاہئے تو پھر ہی بخشش کا عشرہ بخشش کے سامان کرے گا۔اور صرف درمیانی عشرہ ہی نہیں بلکہ اگلا عشرہ بھی بخشش کے سامان کرے گا اور صرف رمضان کا مہینہ نہیں بلکہ آئندہ آنے والا ہر مہینہ اور ہر سال بلکہ ہر سال کا ہر دن بخشش کے سامان کرے گا۔پس اس روح کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے جو آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے پیچھے ہے کہ درمیانی عشرہ بخشش کا سامان کرنے والا۔لا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : عقل کیونکر اس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ بندہ تو سچے دل سے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے مگر خدا اس کی طرف رجوع نہ کرے بلکہ خدا جس کی ذات نہایت کریم و رحیم واقع ہوئی ہے وہ بندہ سے بہت زیادہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔اسی لئے قرآن شریف میں خدا تعالی کا نام۔۔۔تاب ہے یعنی بہت رجوع کرنے والا۔سو بندہ کا رجوع تو پشیمانی اور ندامت اور تذلل اور انکسار کے ساتھ ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا رجوع رحمت اور مغفرت کے ساتھ“۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد نمبر 23 صفحہ 133-134) پس خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ جو حقیقی استغفار کرنے والے اور خالص تو بہ کرنے والے ہیں اور رمضان کے بابرکت مہینے میں اس کے اثرات اپنے پر دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے نظارے دیکھنے والے ہیں۔اگر سستیاں ہوتی ہیں تو بندوں کی طرف سے، اگر کوتاہیاں ہوتی ہیں تو بندوں کی طرف سے ورنہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بندے سے بہت زیادہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہی یہ ہے کہ بندہ اس کے پاس آئے اور وہ اس کی تو بہ کرے جیسا کہ فرمایا وَاللهُ يُرِيْدُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْكُمْ (النساء: 28) اور اللہ چاہتا ہے کہ تم پر شفقت کرے اور تو بہ قبول کرتے ہوئے جھک جائے۔پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جس کام کو اپنے لئے اللہ تعالیٰ نے خود چنا ہے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے پورا نہ کرے۔پس یہ بندے کا کام ہے کہ استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے پھر دیکھے اللہ تعالیٰ کس طرح اس کی طرف بڑھتا ہے۔