خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 356 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 356

356 خطبه جمعه فرموده 29 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم یہاں بھی ملاں ہی ہے جو اس کو ہوا دے رہا ہے۔مقامی لوگ شامل نہیں ہوتے۔باہر سے ملاں آ جاتے ہیں۔بعض احمدیوں کو جیسا کہ میں نے کہا بڑی بری طرح مارا پیٹا گیا۔زخمی ہیں۔ہسپتال میں پڑے ہیں اور یہ سب نومبائعین ہیں۔زیادہ پرانے احمدی بھی نہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام کے تمام مضبوط ایمان والے ہیں۔اس بات پر قائم ہیں کہ جس مسیح و مہدی کو ہم نے قبول کیا ہے وہ وہی ہے جس کی پیشگوئی آنحضرت ﷺ نے فرمائی تھی۔یہ تمام احمدی اس وقت تو وہاں سے نکال لئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے محفوظ ہیں۔قادیان میں ہیں اور کچھ ہسپتال میں داخل ہیں لیکن ان کے گھروں اور مالوں کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ظالموں نے تو یہ ظلم اس لئے کیا تھا کہ نئے احمدی ہیں خوفزدہ ہو کر احمدیت چھوڑ دیں گے لیکن اس ظلم کی وجہ سے اگر کسی گھر میں باپ احمدی ہے اور باقی گھر والے نہیں تو اپنے باپ پر ظلم دیکھ کر اور اس کے ایمان میں اس ظلم کی وجہ سے مزید پختگی دیکھ کر جو باقی گھر والے تھے، جو بالغ اولاد تھی انہوں نے بھی اعلان کر دیا کہ ہم احمدی ہیں۔اس شہر میں آٹھ دس گھر احمدی تھے اور اس ماڑ دھاڑ کی وجہ سے تو دس پندرہ اور بیعتیں ہو گئیں۔ان ملانوں کا کیونکہ اپنا ایمان سطحی ہے بلکہ دکھاوے کا ہے اس لئے احمدیوں کو بھی وہ اسی نظر سے دیکھتے ہیں اور نہیں جانتے کہ اب احمدیت قبول کرنے کے بعد وہی لوگ جو ان میں سے آئے ہیں لیکن نیک فطرت اور سعید فطرت تھے ان کی حالتوں میں کیا انقلاب برپا ہو چکا ہے۔اسی طرح ہندوستان کے بعض اور علاقے ہیں جہاں مسلم اکثریت ہے، وہاں بھی احمدیوں پر ظلم کی خبریں آ رہی ہیں۔اسی طرح آج کل پاکستان میں بھی نئے سرے سے احمدیوں کے خلاف فسادوں میں سرگرمی نظر آ رہی ہے۔لاہور میں ہمارے ایک سنٹر میں پولیس نے کلمہ طیبہ اتارا ہے۔اسی طرح گزری میں گزشتہ دنوں ہماری مسجد میں پتھراؤ کیا گیا، نقصان پہنچایا گیا۔اسی طرح احمدیوں کے گھروں پر پتھراؤ کیا گیا۔اور ساری تکلیف ان کو یہ ہے کہ تمام تر مخالفت کے باوجود جماعت کے قدم ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ہر جگہ خلافت جوبلی کے حوالے سے جلسے اور پروگرام ہو رہے ہیں اور اس چیز نے ان کو بڑی تکلیف دی ہے اور ان کے خیال میں کہ ہم اپنے اپنے اختلافات میں بڑھ رہے ہیں اور احمدی اپنی ترقیات میں بڑھ رہے ہیں۔کسی نے مجھے بتایا کہ گزشتہ دنوں جب خلافت جو بلی کے حوالے سے لاہور میں پروگرام ہو رہے تھے تو جماعت اسلامی کے ایک سیاسی لیڈر نے کہا کہ ان کے پروگرام نہیں ہونے دینے چاہئیں۔اگر ان لوگوں نے خلافت جوبلی منالی تو پھر یہ لوگ تو آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائیں گے اور ہماری حیثیت گلی کے گتوں کی طرح ہو جائے گی۔اب ہم نے تو ان کو گالی نہیں دی یہ تو اپنی حیثیت کا خوداظہار کر رہے ہیں کہ کیا ہو جائے گی۔