خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 348 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 348

348 خطبه جمعه فرموده 29 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم دوسرے ممالک کے بھی کچھ لوگ تھے، غیر مسلم تھے اور کچھ غیر احمدی بھی تھے جن کی تعداد چار ساڑھے چار سو تھی ان کے ساتھ ایک علیحدہ پر وگرام تھا۔اس میں میں نے جہاد کی حقیقت پر ان کے سامنے قرآنی تعلیم رکھی اور بتایا کہ ہجرت سے پہلے کفار مکہ مسلمانوں سے کیا سلوک کرتے رہے۔ہجرت کے بعد کس طرح حملے کئے۔کس طرح مسلمان دفاع کرتے رہے۔قرآن نے کس طرح اور کس حد تک ان حملوں کا جواب دینے کا مسلمانوں کو حکم دیا اور اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاد کی کیا تعریف کی ہے اور کس طرح کا جہاداب ہم احمدی کرتے ہیں۔اس کا ان مہمانوں پر بڑا اچھا اثر تھا۔جس کا بعض نے ملاقات کے دوران بعد میں اظہار بھی کیا اور بڑا کھل کر اظہار کیا کہ آج ہمارے مسلمانوں کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات دور ہوئے ہیں۔اسلام کی تاریخ اور جہاد کا ہمیں پتہ لگا ہے۔جہاد کی تعریف پتہ لگی ہے۔بعض ملکوں کے پڑھے لکھے لوگ بھی آئے ہوئے تھے۔اکثریت تو پڑھے لکھوں کی تھی لیکن اس لحاظ سے پڑھے لکھے کہ ان میں لکھنے والے بھی تھے کچھ جرنلسٹ بھی تھے۔ان میں سے ایک دو نے مجھے کہا کہ ہم اپنے ملکوں میں جا کر اخباروں میں جلسہ کے حوالے سے خبر اور مضمون لکھیں گے اور اسی طرح اس تقریر کے حوالے سے بھی آرٹیکل لکھیں گے کہ مسلمانوں کا اصل جہاد کیا ہے اور آج کل احمد یہ جماعت کس طرح کا جہاد کر رہی ہے۔اللہ کرے کہ یہ لوگ صحیح طور پر لکھ سکیں کیونکہ بعض دفعہ یہ لوگ صحافتی مصلحتوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کچھ نہ کچھ ایچ پیچ ضرور ڈالنا ہوتا ہے۔لیکن بہر حال ان کے چہروں سے یہ واضح اور عیاں تھا کہ وہ ہمارے جلسہ میں شامل ہو کر بہت متاثر ہوئے ہیں۔جن ممالک سے یہ مہمان شامل ہوئے ان میں ایسٹونیا، آئس لینڈ (آئس لینڈ کے تمام لوگ عیسائی تھے ان میں سے کوئی احمدی یا مسلمان نہیں تھا اور انہی میں بعض لکھنے والے بھی تھے البانیہ، مالٹا، رومانیہ، بلغاریہ اور اسی طرح پانچ چھ اور ممالک تھے۔ان مہمانوں میں اکثریت عیسائی تھی۔بلغاریہ ایسا ملک ہے جہاں مسلمانوں کی کافی بڑی تعداد ہے اور مسلمانوں کے یہاں ہونے کی وجہ سے یہاں مخالفت بھی ہے۔ان یورپین ، یعنی مشرقی یورپ کے ملکوں میں سے پرانے مقامی مسلمان بھی یہاں رہتے ہیں۔اسلام کا تو ان کو کچھ پتہ نہیں ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ جیسا کہ ہمیں دنیا میں ہر جگہ نظر آتا ہے کہ جہاں جہاں بھی مذہب کے نام پر فساد برپا ہوتے ہیں وہاں ان مسلمان ملکوں میں ملاں کا بڑا اہم کردار ہے کیونکہ عموماً لوگوں کو تو اسلام کا پتہ نہیں لیکن جماعت کی مخالفت کر رہے ہوتے ہیں۔بلغاریہ میں بھی احمدیوں کے خلاف حکومت کا جو رویہ ہے، حکومت حالانکہ مسلمان نہیں ہے اس کی وجہ بھی یہ ملاں ہی ہے کیونکہ اگر جماعت مکمل آزادی سے تبلیغ کرتی ہے تو اسلام سے متعلق لوگوں کو بتاتی ہے۔ایک حقیقی مسلمان بنا کر اسے خدا سے تعلق پیدا کرنے پر زور دیتی ہے تو یہ جو ملاں ہے یا نام نہاد دین کے لیڈر یا ٹھیکیدار ہیں ان کی انفرادیت ختم ہو جاتی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اکثریت عوام کو تو اسلام کا کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ہر کام کے لئے انہوں نے اپنے نام نہاد مسلمان سکالروں کی طرف رجوع کرنا ہوتا ہے