خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 15

خطبات مسرور جلد ششم 15 خطبه جمعه فرموده 11 جنوری 2008 جوڑ جاڑ کر کچھ آیتیں بنا ئیں اور کچھ سورتیں بنالیں۔ستر یا ستر میرا خیال ہے اور پہلی دفعہ اس کی اشاعت 1999ء میں ہوئی۔اتو بخیلی کل چرچ کی طرف سے تھی اور اس لئے تھی کہ ان کا خیال ہے کہ جو آنے والا مسیح ہے اس کے آنے کی خبر دینے کے لئے آسان طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو پہلے ذہنی طور پر تیار کر لیا جائے اور فرقان الحق کے نام سے ایک کتاب ان میں متعارف کروا دی جائے۔ایک خبر آئی تھی اس زمانے میں بھی کہ کویت میں یہ تقسیم ہو رہی ہے یا بچوں کو پڑھائی گئی ہے۔اس بارہ میں عربی ڈیسک کو کہا تھا کہ پتہ کریں لیکن ان کی رپورٹ نہیں آئی۔انہوں نے بڑی دیر لگادی۔پتہ لگنا چاہئے کیونکہ دو سال پہلے یہ خبر عام ہوئی تھی۔بہر حال امریکہ سے یہ شائع ہوئی تھی۔اس کے علاوہ تحریف کرنے کی ایک اور کوشش بھی ہے۔مسلمانوں کا ایک گروپ ہے جو شریعہ کے خلاف کھڑا ہوا ہے۔یہ لوگ چاہتے ہیں کہ قرآن کریم میں سے جنگ اور جہاد کے بارہ میں جتنی آیات ہیں وہ نکال دی جائیں۔انتہائی مداہنت اور بزدلی دکھانے والا یہ گروپ ہے جو مغربی معاشرہ کو یا دوسرے لفظوں میں عیسائیوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں یا مذہب سے ان کو کوئی لگاؤ ہی نہیں۔قرآن کریم میں تحریف کر کے مسلمانوں کے اندر رخنہ ڈالنا چاہتے ہیں۔بہر حال یہ تو ان لوگوں کی کوشش ہے۔یہ کوششیں چاہے اب عیسائیوں کی طرف سے ہوں یا اس طبقے کی طرف سے ہوں جو مسلمان کہلاتے ہوئے اپنی ہی جڑیں کاٹنے کی کوشش کر رہے ہیں یا منافقین کا کردار ادا کر رہے ہیں ، جن کی طرف سے بھی ہوں ، جو بھی قرآن شریف کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ اس میں تو بہر حال کامیاب نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرمایا ہوا ہے۔یہ لوگ صرف دنیا کی نظر سے دیکھنے والے ہیں۔سمجھتے ہیں کہ جس طرح بائبل میں انسانی دخل ہو گیا، اسی طرح قرآن کریم میں بھی کر سکتے ہیں۔جبکہ بائبل کے ساتھ یا کسی بھی اور کتاب کے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ نہیں تھا۔قرآن کریم وہ واحد کتاب ہے جس کے ساتھ یہ وعدہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اُس عظیم رسول پہ اتری ہوئی کتاب ہے جس کی تعلیم قیامت تک رہنی ہے۔پس ان لوگوں کو چاہے وہ غیر ہیں یا اپنے ہیں اگر خدا پر ایمان ہو تو یہ سب کچھ دیکھ کر کہ واحد کتاب اپنی اصلی حالت میں ہے، دجل اور شرارت کرنے کی بجائے اس کتاب کی تعلیم پر غور کرتے کہ ایک طرف تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک عظیم رسول کے لئے ایک کتاب کی اور اس کی تعلیم کی دعا ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے دعاسن بھی لی اور وہ عظیم رسول عرب میں مبعوث بھی ہو گیا جو اس کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور اس تعلیم کے اثرات دنیا نے دیکھ بھی لئے۔اس کے باوجود یہ دشمنی تبھی ہو سکتی ہے کہ آنکھوں پر پٹی بندھی ہو یا خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین نہ ہو، یا صرف اور صرف شرارت ، فتنہ اور فساد کی غرض ہو۔اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے کہ کیونکہ یہ تعلیم اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہے اور یہ رسول بھی خاتم الانبیاء ہے اس لئے اس رسول کی اتباع کے بغیر نہ کوئی رسول، نہ کوئی نبی آسکتا ہے اور نہ ہی کوئی اور کتاب کبھی آ سکتی ہے۔تم لوگوں نے یہ