خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 136 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 136

خطبات مسرور جلد ششم 136 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مارچ 2008 قبولیت دعا کے تین ہی ذریعے ہیں ، اوّل إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِی ( آل عمران : 32) “۔( یعنی اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری یعنی رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرو۔دوم یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب : 57 ) ( کہ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم اس نبی پر درود اور سلام بھیجتے رہا کرو)۔اور سوم موهَبَتِ الهی “ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہے۔اس کے ذریعے سے بخشش ہے۔دعائیں قبول ہوتی ہیں)۔(رسالہ ریویو، اردو۔جلد 3 نمبر 1 صفحہ 14-15) پس جب تک درود پر توجہ رہے گی تو اس برکت سے جماعت کی ترقی اور خلافت سے تعلق اور اس کی حفاظت کا انتظام رہے گا۔لیکن اس وقت جو میں نے کہا ہے اور خاص طور پر توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ اس وقت خاص طور پر اس حوالے سے درود پڑھیں کہ آج دشمن ، قرآن اور آنحضرت ملالہ کے نام پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس کی یہ کوشش سوائے اس کے بدانجام کے اس کو کوئی بھی نتیجہ نہیں دلا سکتی۔لیکن اس کی اس مذموم کوشش کے نتیجہ میں ہم احمدی یہ عہد کریں کہ آنحضرت ﷺ پر کروڑوں اور اربوں دفعہ درود بھیجیں۔جماعت جب من حیث الجماعت درود بھیجتی ہے یا ایک وقت میں بھیجے گی تو اس کی تعداد کروڑوں تک پہنچ جائے گی اور نہ صرف آج بلکہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسی توجہ سے ہم آپ پر درود بھیجتے چلے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو سنے اور اس درود کو قبول فرمائے جس کے پڑھنے کا خود اس نے حکم دیا ہے اور اسلام اور آنحضرت ﷺ کے چہرے کی روشنی اور چمک دمک پہلے سے بڑھ کر دنیا پر ظاہر ہو۔پس آج جب دشمن اپنی دریدہ دینی اور بدا را دوں میں تمام حدیں پھلانگ رہا ہے تو ہم بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس اسوہ پر عمل کرتے ہوئے کہ جب عدو بڑھ گیا شور و فغاں میں نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے اس سے مدد مانگیں کہ وہ ہمیں اس درود کا حق ادا کرنے کی توفیق دیتے ہوئے آپ ﷺ کے نام کو قرآن کریم کی تعلیم کو روشن تر کر کے دنیا کے سامنے پیش کرنے کی توفیق دے۔اپنے آپ کو ہم اس رفیق اعلیٰ میں جذب کرنے والے بن جائیں جو اپنے ساتھیوں کو نہ صرف نقصان سے بچاتا ہے بلکہ ترقیات سے نوازتا ہے۔پس کیونکہ یہ زمانہ اور آئندہ آنے والا تا قیامت کا زمانہ آنحضرت ﷺ کا زمانہ ہے۔اللہ تعالیٰ سے ہم یہ دعا کریں کہ اے اللہ ! آخری فتح تو یقیناً حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ہے لیکن ہماری دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے اسے ہمارے زمانے میں لے آ۔ہالینڈ کی جماعت کو اس شخص ، ولڈر (Wilder) ایم پی پر یہ بات واضح کر دینی چاہئے کہ بے شک ہم قانون