خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 96

96 خطبه جمعه فرموده 29 فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم یہ کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ قرآن کریم کی تعلیم جھوٹی ہے۔کینیڈین پادری جس کا میں نے ذکر کیا ہے، اس کی کوشش اپنی کتاب میں یہی تھی اور یہی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ ان حرکتوں کی وجہ سے تم چھوڑے جاؤ گے۔اس کے لئے تمہیں جوابدہ ہونا ہوگا۔سزا کے لئے تیار ہونا ہوگا اگر اپنے رویے نہ بدلے۔اور یہ سزا اللہ تعالیٰ کس طرح دے گا ؟ وہ مالک ہے، اس کے اپنے طریقے ہیں۔لیکن یہ اصولی بات ہے کہ وہ اپنے پیاروں کے لئے غیرت رکھتا ہے۔اپنی شریعت کے لئے غیرت رکھتا ہے اور غیرت دکھاتا ہے۔پس ان کے جو یہ عمل ہیں بغیر سزا کے چھوڑے نہیں جائیں گے اور جب سزا کا وقت آئے گا تو کوئی جھوٹا خدا ان کو نہیں بچا سکتا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں لوگوں کو نصیحت کرنے کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے۔بار بار یہ اعلان کیا ہے کہ یہ قرآن آخری شرعی کتاب ہے اور یہ رسول ﷺ آخری شرعی نبی ہیں اور تمام سابقہ انبیاء کی تعلیم کے اہم حصے اس قرآن میں سمو دیئے گئے ہیں۔بلکہ بہت سی ایسی باتیں بھی اس میں شامل کر دی گئی ہیں جن کا پہلی کتابوں میں ذکر تک نہیں تھا۔پس پھر بھی تم لوگوں کو یہ عقل نہیں آتی کہ اس پر غور کرو۔اپنے دلوں کو پاک کرو، سوچو، دیکھو کہ اس کے گہرے مضامین کیا ہیں؟ بجائے یہ کہنے کے کہ 1۔3 بلین مسلمانوں کو دیکھ کر کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ قرآن کریم کی تعلیم حقیقی اور سچی ہے۔سوچنا چاہئے۔سوچو اور غور کرو کہ یہ ایک واحد کتاب ہے جو اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہے اور اللہ تعالیٰ کا اس کے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ یہ محفوظ رہے گی۔گزشتہ دنوں ایک خبر یہ بھی آئی تھی کہ اب بعض جگہ لوگوں نے ایک نئی طرز پر تحقیق شروع کی ہے۔یہ لوگ ثابت کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں کہ قرآن کریم بھی اپنی اصلی حالت میں نہیں ہے۔تو جتنی چاہے یہ کوششیں کر لیں اللہ تعالیٰ کے وعدے کو کبھی جھوٹا نہیں کر سکتے۔اس لئے غلط راستوں پر چلنے کی بجائے اس نصیحت کی طرف توجہ دیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ﴾ (القمر : 18) اور یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کی خاطر آسان بنا دیا۔پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ اس آیت کا سورۃ القمر میں ذکر ہے اور چار دفعہ ذکر آیا ہے اور ہر دفعہ کے ذکر کے بعد کسی قوم کی تباہی کی خبر دی گئی ہے۔پہلی مثال عاد کی دی گئی۔دوسری مثال نمود کی دی گئی۔پھر لوط کی قوم کی دی گئی۔پھر فرعون کی دی گئی۔ان سب نے انبیاء کا انکار کیا ، انہیں جھٹلایا۔آخر اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا سامنا کرنا پڑا۔پس اللہ کے رحم کی جو نظر ہے اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ حد سے نہ بڑھیں۔استہزاء میں بڑھنا اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکا تا ہے۔پس ہم ان لوگوں سے ہمدردی کے جذبات کے تحت کہتے ہیں کہ خدا کا خوف کریں۔قرآن کی تعلیم تو تمام قسم کی تعلیموں اور ضابطہ حیات کا مجموعہ ہے۔روحانیت کے اعلیٰ معیاروں کی یہ تعلیم دیتی ہے۔اخلاق کے اعلیٰ معیاروں کی تعلیم دیتی ہے۔ہر معمولی عقل رکھنے والے اور اعلی فہم وادراک رکھنے والے کے لئے