خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 460 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 460

460 خطبہ جمعہ 16 / نومبر 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم پر توجہ نہ دے کر اس طبقے میں جو بے چینی پیدا ہوگی اور پھر بعض اوقات شدید رد عمل بھی ظاہر ہوتا ہے تو ایسے رد عمل کے اظہار کا باعث وہ لوگ بن رہے ہوں گے جن کے ذمہ حقوق کی ادائیگی تھی ، حالات کو سنوارنے کی ذمہ داری تھی لیکن انہوں نے اپنے فرض کا حق ادا نہیں کیا۔پس اس فرض کا حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے ، ایسے لوگوں کو جو فرض ادا نہیں کرتے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے حقوق ادا نہ کرنے والو، یا ظلم سے حق مارنے والو! ہمیشہ یا درکھو کہ ایک غالب، عزیز خدا تمہارے اوپر ہے اور اس کے حکموں پر عمل نہ کر کے وہ احکام جو حکمت سے پُر احکام ہیں ان پر عمل نہ کر کے تم پھر امن ، سلامتی اور پیار قائم کرنے والے معاشرے کے قیام میں روک ڈالنے والے بن رہے ہو۔اور یہ چیز اس غالب خدا کو کسی صورت میں بھی برداشت نہیں ہے۔پس توجہ کرو ، حکمت اختیار کرو حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دو تا کہ وہ عزیز خدا جو عزیز ورحیم بھی ہے تم پر رحم کرتے ہوئے صفت عزیز کے نظارے تمہیں تمہارے حق میں دکھائے۔ان آیات میں سے جو میں نے تلاوت کی ہیں، پہلی آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اور وہ تجھ سے قیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔تو کہہ دے کہ ان کی اصلاح اچھی بات ہے اور اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر ر ہو تو وہ تمہارے بھائی بندے ہی ہیں اور اللہ فساد کرنے والے کا ، اصلاح کرنے والے سے فرق جانتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ضرور مشکل میں ڈال دیتا ، یقینا اللہ کامل غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔اس آیت میں یتامیٰ کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے اور یتامیٰ کے تعلق میں قرآن کریم میں اور بھی بہت ساری جگہوں پر ذکر ملتا ہے جس میں ان کے حقوق کی ادائیگی اور ان پر شفقت ا ہاتھ رکھنے کا حکم ہے ، اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ تمہارے بھائی ہیں اور بھائی کے ساتھ ایک نیک فطرت بھائی کیا سلوک کرتا ہے۔بڑا بھائی ہمیشہ یہی کوشش کرتا ہے کہ میرا بھائی پڑھائی میں بھی اچھا ہو، صحت میں بھی اچھا ہو ، اخلاق میں بھی اچھا ہو، جماعتی کاموں میں دلچسپی لینے والا ہو، اس کا اٹھنا بیٹھنا اچھے دوستوں میں ہو۔جہاں پڑھائی کی طرف توجہ دے وہاں کھیلنے کی طرف بھی توجہ دے تا کہ اس کی صحت بھی اچھی رہے۔اگر کسی محبت کرنے والے کا بھائی بیمار ہو جائے تو بے چین ہوتا ہے۔اس کی تیمارداری اور اس کے علاج کی طرف بھر پور توجہ دیتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے معاشرے کے یتیم تمہارے بھائی ہیں۔ان سے نیک سلوک کرو، ان کی ضروریات کا خیال رکھو، ہمیشہ یہ بات تمہارے ذہن میں رہے کہ ان کی اصلاح کی طرف بھی توجہ دینی ہے۔ان کو معاشرے کا ایک فعال حصہ بنانا ہے۔یہ نہیں کہ اگر ان کے ماں باپ یا بڑے بہن بھائی نہیں ہیں جو ان کو سنبھال سکیں تو ان کو ضائع کر دو۔فرمایا کہ یہ ایک مومن کا شیوہ نہیں ہے۔مومن تو وہ ہے جوان یتیموں کا خیال رکھتے ہوئے انہیں معاشرے کا مفید وجود بنانے کی کوشش کرتا ہے۔اسلام کی جو ہے کہ پیار بھی کرو اور سختی کے وقت سختی بھی کرو اور ہمیشہ اصلاح کا پہلو مدنظر رہے۔یہ چیز اپنے یتیم بھائیوں اور