خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 409 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 409

خطبات مسر در جلد پنجم 409 خطبه جمعه 05 اکتوبر 2007ء اپنے لئے دعاؤں کی طرف توجہ دینی ہوگی ، وہاں دوسروں تک بھی اس گمشدہ معرفت کے پیغام کو پہنچانے کے انتظام کرنے ہوں گے۔اپنے ماحول میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو پہنچانا ہوگا کہ اس زمانے میں معرفت کا جام اب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ میں دیا ہے۔آؤ اور اس سے فیض پاؤ اور دائمی زندگی حاصل کرو۔آپ فرماتے ہیں: ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے۔مگر جو شخص میرے ہاتھ سے جام پئے گا جو مجھے دیا گیا ہے، وہ ہر گز نہیں مرے گا۔وہ زندگی بخش باتیں جو میں کہتا ہوں ، اور وہ حکمت جو میرے منہ سے نکلتی ہے اگر کوئی اور بھی اس کی مانند کہہ سکتا ہے تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا۔لیکن اگر یہ حکمت اور معرفت جو مُردہ دلوں کے لئے آب حیات کا حکم رکھتی ہے، دوسری جگہ سے نہیں مل سکتی تو تمہارے پاس اس جرم کا کوئی عذر نہیں کہ تم نے اس سر چشمہ سے انکار کیا۔جو آسمان پر کھولا گیا زمین پر اس کو کوئی بند نہیں کرسکتا“۔(ازاله اوهام ، روحانی خزائن جلد 3صفحه104) پس اس سلسلے میں اب ہر ایک کی کوشش ہونی چاہئے کہ ایک نئے جوش کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام پہنچانے کی کوشش کریں لیکن یہ ہمیشہ پیش نظر رہے کہ مومن کا کوئی کام بغیر دعا کے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتا۔رمضان کے یہ دن اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فضل سے مہیا فرمائے ہیں اس کے آخری عشرے میں سے ہم گزر رہے ہیں۔ان میں سب سے اہم دعا یہی ہے جو اگر ہم کریں تو ہماری باقی تمام دعاؤں کو بھی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا ( انشاء اللہ تعالی )۔اللہ تعالیٰ جب ہماری دعاؤں میں اپنی مخلوق کی تڑپ دیکھے گا ، جب آنحضرت ﷺ کی امت کے لئے تڑپ دیکھے گا، جب اپنے دین کی اشاعت کے لئے تڑپ دیکھے گا اور اس مقصد کے حصول کے لئے تڑپ سے کی گئی دعاؤں کو دیکھے گا تو یقیناً ہماری دوسری ضروریات کو اپنے وعدے کے مطابق خود بخود پورا فرمائے گا۔پس رمضان کے یہ جو باقی چند دن ہیں ، اپنی روحوں کو زندہ کرنے کے لئے ، اُمتِ مسلمہ کی زندگی کے لئے اور انسانیت کی زندگی کے لئے خاص دعاؤں میں ہم گزار ہیں تو ہم یقینا ایک بہت بڑے انقلاب کو بر پا ہوتا دیکھیں گے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ خودرو یا صادقہ کے ذریعہ سے لوگوں کو اپنے مسیح کی آمد کی خبر دے رہا ہے اور یہ ایک جگہ نہیں دنیا میں کئی اور جگہوں پر ہورہا ہے۔اللہ تعالیٰ خود سعید فطرت لوگوں کو جگارہا ہے۔دراصل یہ تو اس فانی فی اللہ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے جس نے اپنی دعاؤں سے آج سے 1400 سال پہلے لاکھوں مردوں کو تھوڑے دنوں میں زندہ کر دیا تھا اور آج آپ ﷺ کے عاشق صادق کا زمانہ بھی انہی دعاؤں کا فیض پا رہا ہے جو آپ ﷺ نے اپنے عاشق صادق کے زمانے کے لئے کی تھیں۔دراصل یہ زمانہ بھی آنحضرت ﷺ کا زمانہ ہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ