خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 396
خطبات مسرور جلد پنجم 396 خطبہ جمعہ 28 ستمبر 2007 ء اس میں جلد بازی نہ ہو۔تھوڑے عرصے کے بعد بندہ تھک نہ جائے کہ میں نے دعا کی اور قبول نہیں ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یا درکھو کوئی آدمی کبھی دعا سے فیض نہیں اٹھا سکتا۔جب تک وہ صبر میں حد نہ کر دے اور استقلال کے ساتھ دعاؤں میں لگا نہ رہے۔آپ فرماتے ہیں کہ دیکھو حضرت یعقوب کا پیارا بیٹا یوسف جب بھائیوں کی شرارت سے ان سے الگ ہو گیا تو آپ چالیس برس تک اس کے لئے دعائیں کرتے رہے۔اگر وہ جلد باز ہوتے تو کوئی نتیجہ پیدا نہ ہوتا۔چالیس برس تک دعاؤں میں لگے رہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان رکھا۔آخر چالیس برس کے بعد وہ دعائیں کھینچ کر یوسف کو لے ہی آئیں۔اس عرصہ دراز میں بعض ملامت کرنے والوں نے یہ بھی کہا کہ تو یوسف کو بے فائدہ یاد کرتا ہے۔مگر انہوں نے یہی کہا کہ میں خدا سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اگر دعاؤں میں محروم رکھنا ہوتا تو وہ جلد جواب دے دیتا۔نبی کو جواب دے دیتا۔عام انسان کی نسبت ایک عام مومن کی نسبت، نبی کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق بہت زیادہ ہوتا ہے۔فرماتے ہیں مگر اس سلسلے کا لمبا ہونا قبولیت کی دلیل ہے کیونکہ کریم سائل کو دیر تک بٹھا کر کبھی محروم نہیں کرتا بلکہ بخیل سے بخیل بھی ایسا نہیں کرتا۔وہ بھی سائل کو اگر زیادہ دیر تک دروازے پر بٹھائے تو آخر اس کو کچھ نہ کچھ دے ہی دیتا ہے“۔(الحكم جلد 6 نمبر 46 مورخه 24/ دسمبر 1902ء صفحه 2۔تفسیر حضرت مسیح موعود جلد نمبر 2 صفحه 724) اللہ تعالیٰ تو بہت کریم ہے۔جتنی دیر تک دعائیں مانگتے رہو یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ انکار کر دے بلکہ جو کنجوس ترین آدمی ہے اس کے دروازے پر بھی جاؤ تو اگر مانگنے والا لمبا عرصہ بیٹھا رہا تو وہ بھی کچھ نہ کچھ اس کو دے دیتا ہے۔پس مستقل مزاجی اور صبر بھی دعا کرنے کی بہت اہم شرط ہے۔یہی الہی جماعتوں کا ہمیشہ وطیرہ رہا ہے۔جتنا زیادہ دعا کا موقع ملتا ہے اللہ کا بھی یہ سلوک رہا ہے کہ اتنے زیادہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دروازے کھلتے ہیں۔پس پاکستان میں بھی اور بعض دوسرے ممالک میں بھی جہاں احمدیوں پر تنگیاں وارد کی جارہی ہیں اُن کو یہ فکر نہیں کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کا دامن پکڑے رکھیں ، انشاء اللہ تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ کی مدد آئے گی اور ضرور آئے گی اور ظلمت کے تمام بادل چھٹ جائیں گے اور پھر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی گھٹائیں آئیں گی ، انشاء اللہ۔گوا بھی بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت نے ہر احمدی کا ہاتھ تھاما ہوا ہے لیکن پہلے سے بڑھ کر اس کے نظارے دیکھیں گے۔اس رمضان سے بھی فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے در پر پڑ جائیں کہ اللہ تعالیٰ ان دنوں میں ہمارے قریب تر آیا ہوا ہے۔یہ ابتلاؤں کی گرمی اور رمضان کی گرمی یقیناً ہماری دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دلانے والی ہیں۔پس ہر احمدی کو پہلے سے بڑھ کر اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔