خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 355
355 خطبہ جمعہ 31 راگست 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم پس اللہ تعالیٰ نے یہ موقع مہیا فرمایا ہے کہ اس بات کی یاددہانی ہو جائے اور ان دنوں میں ذکر الہی کی طرف توجہ پیدا ہو جائے ، عبادتوں کی طرف توجہ پیدا ہو جائے تاکہ تقویٰ کے معیار بڑھیں اور ہم اللہ کا قرب حاصل کرنے والے بنیں۔اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالی عملی طور پر اپنا لطف و احسان تم پر ظاہر کرے گا۔پس تقویٰ میں بڑھنے سے اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان ظاہر ہوگا جس کا ایک ذریعہ حقوق اللہ کی ادائیگی ہے اور یہ حق عبادتوں اور ذکر الہی سے حاصل ہوگا۔اس نکتے کو حضرت مصلح موعودؓ نے جلسہ کی مناسبت سے یوں بیان فرمایا تھا کہ کیونکہ یہ جلسہ شعائر اللہ میں سے ہے اور اس میں شامل ہونے کا مقصد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے روحانیت میں ترقی کا حصول بتایا ہے جس کا ایک بہت بڑا ذریعہ عبادت و ذکر الہی ہے۔اور ذکر الہی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اور بہت سارے فائدوں میں سے اس کا بہت بڑا اور عظیم فائدہ یہ ہے کہ اُذْكُرُوا اللَّهَ يَذْكُرُكُمْ یعنی اگر تم ذکر الہی کرو گے تو خدا تعالیٰ تمہارا ذ کر کرے گا۔پس خوش قسمت ہے وہ شخص جس کا ذکر اس کا آقا، اس کا مالک، اس کا پیدا کرنے والا اور مالک حقیقی کرے، اس پر لطف و احسان فرمائے۔پس ان دنوں میں اس اہم امر کی طرف ہر ایک کو بہت توجہ دینی چاہئے۔چاہے وہ جلسہ گاہ میں بیٹھ کر جلسہ سننے والے مرد ہیں یا عورتیں ہیں یا مختلف جگہوں پر خدمت پر مامور ڈیوٹی والے مرد ہیں یا لجنہ و ناصرات ہیں۔کل بھی میں نے کارکنان اور کارکنات کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ذکر الہی کی طرف ان دنوں میں خاص توجہ دیں۔ڈیوٹی دینے والے بھی جب بھی ڈیوٹی دے رہے ہوں ذکر الہی کی طرف توجہ رکھیں جس طرح باقی شاملین جلسہ ذکر الہی کی طرف توجہ رکھتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر تو ہمارا مقصد ہی پورا نہیں ہوتا۔پس اس بنیادی بات کو ہر ایک کو پلے باندھ لینا چاہئے۔جو کام ہم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ایک نمائندے کے کہنے پر خدا کا قرب حاصل کرنے کے لئے کر رہے ہیں اس میں اگر ہم عبادت اور ذکر الہی کو جتنی اہمیت دینی چاہئے وہ نہیں دیں گے تو نہ تو خدا تعالیٰ کے اس نمائندے کے ساتھ سچا تعلق جوڑنے والے بن سکتے ہیں اور نہ ہی خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن سکتے ہیں۔جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ: ” آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ سچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گئے۔یہ ایک ایسا فقرہ ہے کہ اس سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جانے چاہئیں۔ہم یہ پڑھتے ہیں ، سنتے ہیں، جماعتی پروگراموں میں کئی دفعہ یہ الفاظ بینرز پر بھی ہم لکھے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن سرسری نظر سے دیکھتے ہیں اور اس کو دیکھتے ہوئے گزر جاتے ہیں یا تھوڑی دیر کے لئے توجہ پیدا ہوتی ہے تو وہ وقتی ہوتی ہے۔پس بہت فکر کا مقام ہے، ہر فقرہ اور ہر لفظ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ہے، ہمیں جھنجھوڑنے والا ہے۔ہم لاکھ کہتے رہیں، ہم احمدی ہیں لیکن اگر عرش کے خدا نے ہمیں اُس فہرست میں شامل نہیں کیا تو ہمارا احمدی ہونے کا دعوی بھی بیکار ہے اور ہمارا ان جلسوں میں آنے کا مقصد بھی فضول