خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 354 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 354

354 خطبات مسرور جلد پنجم خطبہ جمعہ 31 /اگست 2007 ء ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت میں شمار ہی اسے کیا ہے جس میں حقیقی تقویٰ اور طہارت پیدا ہو اور اپنی عملی حالتوں کو درست کرتے ہوئے اولیاء بنے کی کوشش کرے۔اور اولیاء کیا ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوشش کرنے والے ہیں۔ان کی زبانیں ذکر الہی سے تر رہتی ہیں۔ان کی راتیں اور دن عبادتوں میں گزرتے ہیں۔دنیاوی کاموں میں، جو ان کو پڑتے ہیں ، ان میں بھی خدا کی یاد سے غافل نہیں ہوتے۔ان کے ہر عمل سے خدا کی رضا کی تلاش کی جھلک نظر آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”یا درکھو کہ کامل بندے اللہ تعالیٰ کے وہی ہوتے ہیں جن کی نسبت فرمایا ہے لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ ( النور: (38) جب دل خدا کے ساتھ سچا تعلق اور عشق پیدا کر لیتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوتا ہی نہیں۔اس کی ایک کیفیت اس طریق پر سمجھ میں آسکتی ہے کہ جیسے کسی کا بچہ بیمار ہو تو خواہ وہ کہیں جاوے، کسی کام میں مصروف ہو، مگر اس کا دل اور دھیان اسی بچے میں رہے گا۔اسی طرح پر جولوگ خدا کے ساتھ سا تعلق اور محبت پیدا کرتے ہیں وہ کسی حال میں بھی خدا کوفراموش نہیں کرتے“۔الحکم جلد 8 نمبر 21 مورخہ 24 جون 1904 صفحہ (1) پس اللہ تعالی کی یہ یاد اور اس کا ذکر ہراحمدی کا مطمح نظر ہو، مقصد ہو۔جہاں زبان ہر وقت ذکر الہی کر رہی ہو وہاں دل کی یہ حالت ہو کہ میں ہر اس عمل کو بجالانے والا بنوں جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ہر اس عمل سے، ہر اس کام سے بچنے والا بنوں جس کے نہ کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔ہر وقت یہ پیش نظر رہے کہ میری ہر حرکت و سکون خدا تعالیٰ کی نظر کے سامنے ہے اس لئے میرے سے کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہو جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنے۔پس یہ حالت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اسی حالت کے پیدا کرنے کے لئے سال میں ایک دفعہ چند دن کے لئے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جلسہ کے لئے بلایا ہے۔پس اے وہ تمام احمد یو! جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ عہد بیعت باندھا ہے کہ اے امام الزمان ! جو ایمان ہمارے دلوں سے نکل کر ثریا پر چلا گیا تھا اور جسے تو دوبارہ پھر اس دنیا پر، اس زمین پر واپس لایا ہے اور وہ قرآنی تعلیم جس نے ہمیں خیر امت بنایا تھا لیکن ہم دنیا داری میں پڑ کر اسے بھلا بیٹھے تھے ، جسے تو نے پھر ہماری زندگیوں کا حصہ بنانے کے لئے ہم میں جاری فرمایا ہے اور خود اس کے پاک نمونے قائم فرمائے ہیں ، ہم عہد کرتے ہیں کہ اب یہ ایمان اور یہ تعلیم ہمارے دلوں کا ، ہمارے عملوں کا ہمیشہ کے لئے حصہ بنی رہے گی ، انشاء اللہ۔ہم اب اپنی زبانوں کو خدا تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق ذکر الہی سے تر رکھیں گے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ك يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (الاحزاب (42) یعنی اے مومنو! اللہ کا بہت ذکر کیا کرو۔