خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 351 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 351

خطبات مسرور جلد پنجم 351 35 خطبہ جمعہ 31 راگست 2007 ء فرموده مورخه 31 راگست 2007 (بمطابق 31 ظهور 1386 ہجری شمسی) بمقام مئی مارکیٹ ،منہا ئیم (جرمنی) تشہد، تعوذ وسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: آج اس خطبہ کے ساتھ ہی جماعت احمد یہ جرمنی کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے۔ہم پر اللہ تعالیٰ کے انعاموں میں سے یہ بھی ایک بہت بڑا انعام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فر مایا کہ سال میں ایک دفعہ ہم جمع ہو کر اپنی روحانی اور اخلاقی ترقی کے سامان بہم پہنچائیں۔ایسے پروگرام بنا ئیں جو ہمیں خدا تعالیٰ سے قریب کرنے والے اور تقویٰ میں بڑھانے والے ہوں۔اس ارادے اور اس نیت سے یہ دن گزاریں کہ ہم نے اعلیٰ اخلاق اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کے بھی اعلیٰ معیار قائم کرنے ہیں۔آپس میں محبت، پیار اور تعلق کو بڑھانا ہے، رنجشوں کو دور کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنی ہے، ہر قسم کی لغویات سے اپنے آپ کو پاک کرنا ہے۔بظاہر یہ چند باتیں ہیں جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ کے مقاصد میں سے بیان فرمایا۔لیکن یہی باتیں ہیں جو انسان کے مقصد پیدائش کو پورا کرنے والی ہیں۔پس جلسہ پر آنے والے ہر احمدی کو ہمیشہ یہ بات اپنے پیش نظر رکھنی چاہئے کہ اس جلسہ میں شامل ہونا اپنے اندر ایک بہت بڑا مقصد رکھتا ہے۔اگر خدا کی رضا کے حصول کی کوشش نہیں ہو رہی ، اگر تقویٰ میں ترقی کرنے کی کوشش نہیں ہورہی، اگر اخلاق کے اعلیٰ نمونے قائم کرتے ہوئے بندوں کے حقوق ادا نہیں ہور ہے تو پھر جلسہ پر آنے کا مقصد پورا نہیں ہورہا اور اگر یہ مقصد پورا نہیں کرنا تو پھر اس جلسہ پر آنے کا فائدہ بھی کوئی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا ئیں بھی صرف انہی کے حق میں پوری ہوں گی جو اس مقصد کو سمجھ رہے ہوں گے ، اس غرض کو سمجھ رہے ہوں گے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جلسہ کا اجراء فرمایا تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ حال کے پیر زادوں کی طرح صرف ظاہری شوکت دکھانے کے لئے اپنے مبائعین کو اکٹھا کروں۔بلکہ وہ علت غائی یعنی وہ بنیادی وجہ وہ مقصد ” جس کے لئے میں حیلہ نکالتا ہوں، اصلاح خلق اللہ ہے۔پس ہر احمدی جو دنیا میں کسی بھی جگہ بسنے والا ہے۔جب اپنے ملک کے جلسہ سالانہ میں شریک ہوتا ہے یا اب بعض ذرائع اور سہولتوں کی وجہ سے بعض احمدی جن کو اللہ تعالیٰ نے آسانی اور وسائل مہیا فرمائے ہوئے ہیں دوسرے ممالک کے جلسوں میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔( یہاں بھی اس وقت بہت سے مختلف ممالک سے بعض احمدی آئے