خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 269
خطبات مسرور جلد پنجم والا ہے۔269 خطبہ جمعہ 29 جون 2007ء یعنی اس لئے اجازت دی جاتی ہے کہ نمبر 1 يُقتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا کیونکہ ان پر جو ظلم ہوئے تھے بلا وجہ جو قتل کیا جارہا تھا، اس لئے ان کو اجازت دی جاتی ہے کہ اب تمہاری حکومت قائم ہو گئی ہے تو جب تمہارے پر حملہ ہو یا تمہیں کوئی قتل کرنے کے لئے آئے تو لر و اور بدلہ لو۔یا حکومت قائم ہے تو سزا کے طور پر قاتل کو سزا دو۔پھر فرمایا دوسری بات کہ اُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ یعنی ان کے گھروں سے ان کو بلا وجہ نکالا گیا۔ان کا قصور کیا ہے؟ قصور یہ کہ وہ کہتے ہیں رَبُّنَا اللہ کہ اللہ ہمارا رب ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ اجازت نہ دی جاتی جو کہ مسلمانوں کو ایک لمبا عرصہ صبر کرنے اور ظلم سہنے اور ظلم میں پیسنے کے بعد دی گئی تو دنیا میں ہر طرف ظلم و فساد نظر آتا۔پس یہ اصولی حکم آگیا کہ جب کوئی قوم دیر تک مسلسل دوسری قوم کے ظلموں کا تختہ مشق بنی رہے تو یہ اجازت دی جاتی ہے کہ جب اس کی حکومت قائم ہو تو اگر اس کے اختیارات ہیں تو وہ جنگ کرے۔لیکن اس کا مقصد ظلم کا خاتمہ ہے نہ کہ ظلموں کے بدلے لینے کے لئے حد سے بڑھ جانے کا حکم۔اس چیز کو بھی محدود کیا گیا ہے اس پر حکمت ارشاد نے دوسرے مذاہب کے تحفظ کا بھی انتظام کروا دیا کہ اگر یہ اجازت نہ دی جاتی تو ہر مذہب کی عبادت گاہ ظالموں کے ہاتھوں تباہ و برباد کر دی جاتی جس سے نفرتیں اور بڑھتی ہیں اور سلامتی دنیا سے اٹھ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ ہمیشہ سے ظالم کو ظلم سے روکنے کی اجازت ہے۔پس اگر یہ اسلام کی حکومت پر الزام لگانے والے ہیں تو یہ انتہائی غلط الزام ہے۔جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو اس کو روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔اسلام مذہب کے معاملے میں کسی پر پخت نہیں کرتا، کہتا ہے اس معاملے میں کسی پر سختی نہیں۔اپنے مذہب میں نہ کسی کوز بر دستی شامل کیا ، نہ کیا جا سکتا ہے، نہ اس کا حکم ہے۔مذہب ہر ایک کے دل کا معاملہ ہے، اس لئے ہر ایک اپنی زندگی اس کے مطابق گزارنے کا حق رکھتا ہے۔اس حکم میں مسلمانوں کو اس اہم امر کی طرف بھی توجہ دلا دی کہ جہاں تمہاری حکومت ہے، تمہیں اس بات سے باز رہنا چاہئے کہ دوسرے مذاہب کے راہب خانے ، گرجے اور معاہد ظلم سے گراؤ ورنہ پھر یہ ظلم ایک دوسرے پر ہوتا چلا جائے گا تمہاری مسجدیں بھی گرائی جائیں گی اور یوں فساد کا ایک سلسلہ شروع ہو جائے گا۔بد قسمتی سے آج بعض مسلمان ملکوں میں بشمول پاکستان بھی ، بعض مفاد پرست ملاں اسلام کے نام پر عیسائیوں کو بھی نوٹس دے رہے ہیں۔پچھلے دنوں میں اخباروں میں آرہا تھا۔چارسدہ میں نوٹس دیا کہ مسلمان ہو جاؤ ورنہ قتل کر دیئے جاؤ گے یا تمہارا گر جا گرا دیا جائے گا۔چند سال پہلے گرائے بھی گئے تھے۔تو یہ چیز ہے جس نے اسلام کو بدنام کیا ہے اور مخالفین اسلام کو اسلام پر انگلی اٹھانے کا موقع دیا ہے۔آج مسلمانوں کو ان وجوہات کی وجہ سے ہر جگہ جو سکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ بھی اسی لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ورنہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے