خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 9
خطبات مسرور جلد پنجم 9 خطبہ جمعہ 12 جنوری 2007 ء سہولتیں بھی نہیں تھیں۔اس لئے اپنے لئے بھی اور وہاں کے رہنے والے لوگوں کے لئے بھی کچھ دوائیاں، ایلو پیتھی اور ہومیو پیتھی وغیرہ ساتھ رکھا کرتے تھے۔اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں موبائل ڈسپنسری ہے، دیہاتوں میں جاتی ہے، میڈیکل کیمپ بھی لگتے ہیں۔باقاعدہ کوالیفائڈ (Qualified) ڈاکٹر وہاں جاتے ہیں۔اسی طرح جماعت نے تھی میں ایک بہت بڑا ہسپتال بنایا ہے۔اس میں آنکھوں کا ایک ونگ (Wing) بھی ہے۔تو وقف جدید کی تحریک میں پاکستان کے احمدیوں نے اپنی تربیت اور تبلیغ کے لئے اُس زمانے میں بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کیں اور اللہ کے فضل سے اب تک کر رہے ہیں اور کام میں بھی اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت وسعت پیدا ہو چکی ہے اور کام بہت آگے بڑھ چکا ہے۔اللہ تعالیٰ جس طرح جماعت پر فضل فرمارہا ہے یہ تو بڑھتا ہی رہنا ہے۔یہاں ایک بات جو میں اس خطبہ کے ذریعہ سے سندھ کے علاقے کے احمدی زمینداروں کو کہنا چاہتا ہوں اور اسی بات پہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع " نے بھی توجہ دلائی تھی کہ یہ جو ہندو اس علاقے میں رہنے والے ہیں یا ان میں سے جو مسلمان ہو چکے ہیں، بڑے غریب لوگ ہیں۔وہ اس غربت کی وجہ سے سندھ کے آباد علاقے میں جہاں پانی کی سہولت ہے مزدوری کی غرض سے آتے ہیں اور بڑی محنت سے مزدوری کرتے ہیں۔ان کے ساتھ یہ جو احمدی زمیندار ہیں یہ حسن سلوک کیا کریں۔یہ پیار ہی ہے جو ان لوگوں کو مزید قریب لائے گا اور اللہ تعالیٰ وہاں کے احمدیوں کی قربانیوں کو انشاء اللہ پھل عطا فرمائے گا۔اس لئے اس طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔بہر حال یہ مختصر پس منظر، یہ حالات میں نے اس لئے بتائے ہیں تا کہ نئی نسل کے لوگوں کو اور نئے آنے والوں کو بھی اس تحریک کا مختصر تعارف ہو جائے کیونکہ اب تو وقف جدید کی یہ تحریک تمام دنیا میں جاری ہے، لوگ اس کے چندے کی ادائیگی کرتے ہیں۔جہاں تک پاکستان کا سوال ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستانی احمد یوں نے اپنے اخراجات تو آپ سنبھالے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن 1985 ء میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع " نے وقف جدید کی تحریک کو ، یعنی مالی قربانی کی تحریک کو ساری دنیا پہ پھیلا دیا، تا کہ دنیا میں جو احمدی آباد ہیں خاص طور پر یورپ اور امریکہ وغیرہ میں ان کے چندوں سے ہندوستان میں بھی وقف جدید کے نظام کو فعال کیا جائے اور وہاں زیادہ سے زیادہ تربیت و تبلیغ کا کام کیا جائے اور جس علاقے میں خلافت ثانیہ کے دور میں کسی زمانے میں شدھی کی تحریک چلی تھی اور جس کے توڑ کے لئے جماعت نے اس وقت بڑے عظیم کام کئے تھے بڑی قربانیاں دی تھیں اس علاقے میں رہ کر تبلیغ کی تھی۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع " نے 1985 ء میں فرمایا تھا کہ اس علاقے میں دوبارہ تشویشناک صورتحال ہے اس لئے ہندوستان کی جماعتوں کو اس طرف توجہ دینی چاہئے اور وسیع منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔اور اخراجات کے لئے آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ باہر سے رقم آ جائے گی۔اس لئے پھر جیسا کہ