خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 170
170 خطبہ جمعہ 27 اپریل 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم میں پیدا کرنا اور ہر ایک امر جو موت اور زندگی کے متعلق تھا، تمام یہ امور بتوں کی طرف منسوب کر رکھے تھے اور ہر ایک ان میں سے اعتقاد رکھتا تھا کہ اس کا ایک بڑا بھاری مددگاربت ہی ہے جس کی وہ پوجا کرتا اور وہی بت مصیبتوں کے وقت اس کی مدد کرتا ہے اور عملوں کے وقت اس کو جزا دیتا ہے اور ہر ایک ان میں سے انہی پتھروں کی طرف دوڑتا تھا۔ان ہی کے آگے فریاد کرتا تھا۔پھر آپ فرماتے ہیں اور ان کے دل میں یہ ذہن نشین تھا کہ ان کے بت تمام مرادیں ان کی دے سکتے ہیں اور وہ لوگ خیال کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ ان تکالیف سے کہ کسی کو مراد دیوے اور کسی کو پکڑے پاک اور منزہ ہے اور اس نے یہ تمام قو تیں اور قدرتیں جو عالم ارواح اور اجسام کے متعلق ہیں ایسی تمام باتیں جو روح یا جسم کے متعلق ہیں ، یہ انسان سے متعلق ہیں یا کسی بھی مخلوق سے متعلق ہیں۔اُن کے بتوں کو دے رکھی ہیں۔اور خود ایک طرف ہو کے بیٹھ گیا ہے۔فرماتے ہیں کہ ” اور عزت بخشی کے ساتھ الوہیت کی چادر ان کو پہنادی ہے یعنی بتوں کو ہی تمام طاقتیں دی ہیں اور خدا عرش پر آرام کر رہا ہے اور ان بکھیڑوں سے الگ ہے اور ان کے بت ان کی شفاعت کرتے اور دردوں سے نجات دیتے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ ” بدکاریاں کرتے تھے اور ان کے ساتھ فخر کرتے تھے اور زنا کرتے اور چوری کرتے اور یتیموں کا ناحق مال کھاتے اور ظلم کرتے اور خون کرتے اور لوگوں کو لوٹتے اور بچوں کو قتل کرتے اور ذرا نہ ڈرتے۔اور کوئی گناہ نہ تھا جو انہوں نے نہ کیا۔اور کوئی جھوٹا معبود نہ تھا جس کی پوجانہ کی۔انسانیت کے ادبوں کو ضائع کیا اور انسانی خُلقوں سے دور جاپڑے اور وحشی جانوروں کی طرح ہو گئے۔پھر آپ فرماتے ہیں :" بدکاریوں اور خدا تعالیٰ کی نافرمانیوں میں حد سے گزر گئے اور جنگلی حیوانوں کی طرح جو کچھ چاہا کیا اور ہمیشہ ان کے شاعر دریدہ دہنی سے عورتوں کی بے عزتی کرتے اور ان کے امراء کا شغل قمار بازی اور شراب اور بدی تھی۔جوا اور شراب کی برائیوں میں پوری طرح ملوث تھے اور جب بخل کرتے تھے تو بھائیوں اور یتیموں اور غریبوں کا حق تلف کر دیتے تھے اور جب مالوں کو خرچ کرتے تھے تو عیاشی اور فضول خرچی اور زنا کاری اور نفسانی ہوا اور ہوس کے پوری کرنے میں خرچ کرتے اور نفس پرستی کو انتہا تک پہنچاتے تھے۔غریبوں پر خرچ کرنا ان کے لئے دو بھر تھا لیکن اپنی عیاشیوں پر فضولیات پر خرچ کرتے تھے۔تو یہ اس وقت کے عرب کی حالت تھی۔آج بھی جو دنیا دار ہیں ان سے اگر اللہ کے راستے میں مانگو تولیت ولعل سے کام لیتے ہیں لیکن اپنی فضولیات اور دنیاوی چیزوں کے لئے جتنا مرضی چاہیں خرچ کر لیں۔پھر فرماتے ہیں : ”وہ لوگ اپنی اولادکو درویشی اور تنگدستی کے خوف سے قتل کر دیا کرتے تھے اور بیٹیوں کو اس عار