خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 165 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 165

خطبات مسرور جلد پنجم 165 (17) خطبہ جمعہ 27 اپریل 2007 ء فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2007ء ( 27 / شہادت 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ (النحل: 103) اللہ تعالیٰ کی باقی صفات کی طرح صفت قدوس سے بھی سب سے زیادہ فیض پانے ، اُس کو اپنے اوپر لاگو کرنے اور اس کے لئے دعا کرنے والی اس دنیا میں کوئی ہستی تھی تو وہ آنحضرت ﷺ تھے۔آپ ہی وہ کامل انسان اور کامل نبی تھے جس نے اللہ تعالیٰ کا رنگ مکمل طور پر اپنے اوپر چڑھایا اور اللہ تعالیٰ نے بھی سب سے زیادہ آپ کو ہی اپنی صفات سے متصف فرمایا اور پھر اپنی امت کو بھی مختلف رنگ میں آپ نے تلقین و نصیحت فرمائی کہ اُس پاک ذات سے تعلق جوڑنے کے لئے ، اس کی برکات سے فیضیاب ہونے کے لئے تمہیں بھی اپنے اندر سے تمام کجیوں کو دور کرنا ہوگا، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا ہوگا تبھی تمہارا تعلق مجھ سے اور میرے خدا سے ہوسکتا ہے۔اس ضمن میں آج میں متفرق احادیث پیش کروں گا جن میں آنحضرت ﷺ کی سیرت کے پہلو بھی ہیں دعا ئیں بھی ہیں اور مومنوں کو نصیحتیں بھی ہیں۔اور اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو آپ کے عاشق صادق تھے اور غلام صادق تھے، جو خود بھی آنحضرت ﷺ کی اس زمانے میں قوت قدسی کا ایک نشان ہیں آپ ﷺ کے اس فیض کو جس طرح آپ نے سمجھا، اس مقام کو جس طرح آپ نے سمجھا اور ہمیں بتایا ، اس پہلو سے بھی آپ کے حوالے پیش کروں گا۔آنحضرت ﷺ کی ایک دعا ہے جو حضرت عائشہؓ سے مروی ہے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رکوع میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے کہ سُبُوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَئِكَةِ وَالرُّوح -۔(سنن النسائی کتاب التطبيق باب نوع آخر منه حديث نمبر 1048 | پاک مبارک اور مطہر فرشتوں اور روح کا خالق اور پالنے والا ہے۔ایک روایت یہ ہے کہ یہ وہ تہی ہے جو ملائکہ کرتے ہیں ، فرشتے کرتے ہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے، حضرت سعید بن عبدالرحمن اپنے دادا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ وتر میں یہ سورتیں پڑھا کرتے تھے ، سورۃ الاعلیٰ پہلی رکعت میں، دوسری رکعت میں سورۃ الکافرون اور تیسری رکعت