خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 3
خطبات مسرور جلد پنجم 3 خطبہ جمعہ 05/جنوری 2007ء وسیع پیمانے پر ایک پروگرام بنانا چاہئے جس میں باہر سے آئے ہوئے احمدی بھی شامل ہوں ، مقامی احمدی بھی شامل ہوں تا کہ ہر باشندے تک یہ پیغام پہنچ جائے۔اللہ کے اُس پہلوان کی مدد کریں جس کو خود اللہ تعالیٰ نے جری اللہ کے خطاب سے نوازا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہی اس کام پر مقرر کیا ہے کہ تمام ادیان کے ماننے والوں کو امت واحدہ بنا کر ایک ہاتھ پر جمع کریں۔پس جس نیکی کو آپ لوگوں نے ، ہم نے ، اللہ تعالیٰ کے فضل سے پالیا ہے اس کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کے لئے پہلے سے بہت بڑھ کر کوشش کرنی چاہئے۔بعض دفعہ نئے آنے والے لوگ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جس کے ذریعہ سے بیعت کی اس کی عملی حالت کیا ہے، یہ نہ دیکھیں۔احمدی بنانے والوں کی عملی حالت کو نہ دیکھیں کہ کیا ہوئی ہے اگر کسی میں کمزوری ہے تو وہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے آگے جوابدہ ہے۔بہت سے ایسے بھی ہوں گے جو نیکیوں میں بڑھنے والے اور نیکیوں کو قائم کرنے والے ہیں اور برائیوں سے روکنے والے ہیں۔بہر حال اسلام میں ہر ایک، ہر شخص اپنے فعل کا انفرادی طور پر ذمہ دار ہے۔کسی کی ذاتی کمزوری کو کسی دوسرے کے لئے ابتلاء کا باعث نہیں بنا چاہئے۔پرانے احمدیوں میں اگر کسی کو بگڑتا ہوا دیکھیں تو اس کے لئے بھی وہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو سیدھے راستے پر چلائے اور استغفار کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی بھی کوشش کریں اور اس میں جتنی زیادہ استغفار کریں گے جتنی زیادہ کوشش کریں گے اتنے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے۔جب نئے اور پرانے احمدی اس مقصد کی ادائیگی کے لئے کمر بستہ ہو جائیں گے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تو پھر آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق کے معیار بڑھنے شروع ہوں گے۔اور جب معیار بڑھیں گے تو ڈچ قوم میں احمدیت اور اسلام کا پیغام پہنچانے کی طرف آپ لوگوں کو خود مزید توجہ پیدا ہوگی تا کہ یہ لوگ بھی ہدایت پانے والے بن جائیں۔ان لوگوں کو علم ہی نہیں ہ کہ اسلام کی تعلیم کتنی خوبصورت تعلیم ہے۔اس لئے اس نا واقفیت کی وجہ سے یہ لوگ اسلام پر حملے کرتے ہیں، اسلام کی تعلیم کا مذاق اڑاتے ہیں، استہزاء کرتے ہیں، اس کی خوبصورت تعلیم پر اعتراض کرتے ہیں۔بعض بڑے شدید رد عمل ہیں مثلاً پر دے پر یہاں بہت شور اٹھتا ہے اور اس کے Ban کرنے کے لئے قانون سازی کا بھی سوچا جا رہا ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ اسلام کی بھیا نک تصویر ان کو دکھائی گئی ہے۔اسلام کی خوبصورت تعلیم ان لوگوں کے سامنے اس طرح پیش ہی نہیں کی گئی جو اس کے پیش کرنے کا حق ہے۔اگر احمدی مرد عورت، جو یہاں آکر آباد ہوئے ہیں ، بڑے چھوٹے سب، شروع میں ہی اس طرف توجہ دیتے ، بہت پہلے سے اس طرف توجہ ہوتی ، اپنی ذمہ داری کو سمجھتے اور احمدیت اور حقیقی اسلام سے لوگوں کو متعارف کرواتے تو میں نہیں سمجھتا کہ یہ صورتحال پیدا ہوتی۔بہر حال اب بھی وقت ہے ہر احمدی کو اس بات کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔اسلام کی صحیح تعلیم لوگوں کو بتانے کے لئے ایک مہم کی صورت میں کوشش کرنی چاہئے۔پہلے بھی میرا خیال ہے یہاں میں دو دفعہ اس بات کا اظہار کر چکا ہوں، اس طرف توجہ دلا چکا ہوں لیکن جس طرح کوشش ہونی چاہیئے اس طرح کوشش نہیں ہوئی۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے بہترین امت قرار دیا ہے جن کو دنیا کے فائدے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔پس ہمیں ہمیشہ یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ہماری نظر ہمیشہ دنیا کو خیر اور بھلائی پہنچانے کی طرف رہے اور سب سے زیادہ بڑی خیر اور بھلائی کیا ہے ، وہ اسلام کی خوبصورت تعلیم ہے۔دنیا کوفائدہ پہنچانے کا راستہ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ نیکی کی ہدایت کرو اور اسلام کی تعلیم نے نیکیاں