خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 46
46 خطبہ جمعہ 02 فروری 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم (مرزا ایوب بیگ صاحب )۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس کو عاشقانہ ارادت تھی۔وہ بیمار ہو گئے اور اس بیماری میں آخر وہ مولیٰ کریم کے حضور جا پہنچے اپنی زندگی کے آخری ایام میں وہ اپنے بھائی ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کے پاس بمقام فاضل کا تھے اور حضرت اقدس کی محبت کا غلبہ ہوا تو انہوں نے خواہش کی کہ حضرت کو دیکھیں۔خودان کا آنا نہایت مشکل تھا کیونکہ سفر کے قابل نہ تھے اور جوش کو دبا بھی نہ سکتے تھے۔انہوں نے حضرت اقدس کو خط لکھا کہ حضور اس جگہ فاضل کا میں آن کرمل جاویں۔( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لکھا کہ آپ آ کر مجھے یہاں مل جائیں)۔میرا دل بہت چاہتا ہے کہ میں حضور کی زیارت کروں۔پھر اسی مضمون کا ایک تار بھی دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے جواب میں جو خط لکھا اس سے اس فطرت کا جو آپ میں رقت قلبی کی تھی اظہار نمایاں طور پر ہو جاتا ہے،۔آپ مرزا ایوب بیگ صاحب کو خط میں لکھتے ہیں کہ مجبی ، عزیزی مرزا ایوب بیگ صاحب، و محبی عزیز مرزا یعقوب بیگ صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس وقت جو میں در دسر اور موسمی تپ سے یکدفعہ سخت بیمار ہو گیا ہوں، مجھ کو تا ریلی۔جس قدر میں عزیزی مرزا ایوب بیگ کے لئے دعا میں مشغول ہوں اس کا علم تو خدا تعالیٰ کو ہے۔خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہرگز ناامید نہ ہونا چاہئے۔میں تو سخت بیماری میں بھی آنے سے فرق نہ کرتا لیکن میں تکلیف کی حالت میں ایسے عزیز کو دیکھ نہیں سکتا۔میرا دل جلد صدمه قبول کرتا ہے۔یہی چاہتا ہوں کہ تندرستی اور صحت میں دیکھوں۔جہاں تک انسانی طاقت ہے اب میں اس سے زیادہ کوشش کروں گا مجھے پاس اور نزدیک سمجھیں ، نہ دُور۔میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے میں اس در دکو بیان کروں۔خدا کی رحمت سے ہرگز ناامید مت ہو۔خدا بڑے کرم اور فضل کا مالک ہے۔اس کی قدرت اور فضل اور رحمت سے کیا دُور ہے کہ عزیزی ایوب بیگ کو تندرست جلد تر دیکھوں۔اس علالت کے وقت جوتار مجھ کو ملی میں ایسا سراسیمہ ہوں کہ قلم ہاتھ سے چلی جاتی ہے ( یعنی اتنی پریشانی کی حالت ہوگئی ہے کہ قلم بھی نہیں پکڑی جارہی ) میرے گھر میں بھی ایوب بیگ کے لئے سخت بے قرار ہیں۔( حضرت اماں جان کے بارے میں لکھا ) اس وقت میں ان کو بھی اس تار کی خبر نہیں دے سکتا کیونکہ کل سے وہ بھی تپ میں مبتلا ہیں اور ایک عارضہ حلق میں ہو گیا ہے۔مشکل سے اندر کچھ جاتا ہے۔اس کے جوش سے تپ بھی ہو گیا ہے وہ نیچے پڑے ہوئے ہیں اور میں اوپر کے دالان میں ہوں۔میری حالت تحریمہ کے لائق نہ تھی لیکن تار کے دردانگیز اثر نے مجھے اس وقت اٹھا کر بٹھا دیا۔آپ کا اس میں کیا حرج ہے کہ اس کی ہر روز مجھ کو اطلاع دیں۔معلوم نہیں کہ جو میں نے ابھی ایک بوتل میں دوا روانہ کی تھی وہ پہنچی یا نہیں، ریل کی معرفت روانہ کی گئی تھی۔اور مالش معلوم نہیں ہر روز ہوتی ہے یا نہیں۔( تو یہ ساری تسلی دی ) آپ ذرہ