خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 350 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 350

350 خطبہ جمعہ 24 راگست 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم جہاں سے وہ گمان نہ کرتے ہوں۔تو اللہ تعالیٰ نے یہی بتایا ہے کہ بُری تدبیر کرنے والے اللہ کے سامنے ٹھہر نہیں سکتے ہیں۔جب یہ لوگ حد سے بڑھتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی چکی چلتی ہے۔پس یہ بظاہر جو چھوٹے چھوٹے طوفان اور زلزلے ایک تسلسل کے ساتھ اس سال دنیا میں آئے ہیں ، ان سے عبرت حاصل کرنی چاہئے۔مغرب کو بھی اور مشرق کو بھی اور ہر مذہب والے کو بھی۔مسلمانوں کو بھی اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی۔اس بات کو سوچیں اور وجہ تلاش کریں کہ کیوں خدا کا عذاب بھڑ کا ہے۔آواز دینے والے کی اس آواز پر غور کریں ، جو آپ نے فرمایا تھا کہ میں نہ آیا ہوتا تو بلاؤں میں تاخیر ہو جاتی۔پس اگر ان بلاؤں سے بچنا ہے تو اس آنے والے کی آواز پر مسلمانوں کو بھی غور کرنا ہو گا اور عیسائیوں کو بھی غور کرنا ہو گا اور دوسرے مذاہب والوں کو بھی غور کرنا ہوگا اور لامذہب والوں کو بھی غور کرنا ہوگا۔ورنہ پھر آواز دینے والے کا یہ اعلان بھی ہے کہ : ”اے یورپ ! تو بھی امن میں نہیں اور اسے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکر وہ کام کئے گئے پ رہا۔مگر اب وہ ہیت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا۔جس کے کان سننے کے ہوں سنے کہ وہ وقت دور نہیں۔میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں۔پھر آپ فرماتے ہیں: ” خدا غضب میں دھیما ہے تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ کیڑا ہے نہ کہ آدمی۔اور جو اُس سے نہیں ڈرتا وہ مُردہ ہے نہ کہ زندہ۔اور وہ چپ ر (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 269 مطبوعہ لندن) پس یہ پیغام ہے جو آج ہر احمدی نے دنیا میں، دنیا کی بقا کے لئے ، دنیا کو بچانے کے لئے دینا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی خدا کی حقیقی پہچان کی توفیق دے اور دنیا کو بھی اس واحد خدا کی پہچان کرانے والا بنائے تا اس واحد اور یگانہ خدا کے عذاب کی بجائے ہم اس کے رحم کو حاصل کرنے والے بن سکیں۔( مطبوعه الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 14 تا 20 ستمبر 2007 ء ص 5 تا 7)