خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 112 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 112

112 خطبہ جمعہ 16 / مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم میں 13 مارچ کو وفات پاگئی ہیں۔ان کا جنازہ یہاں آئے گا اس کے بعد پاکستان لے جایا جائے گا۔انشاء اللہ۔یہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے تایا چوہدری غلام حسین صاحب کی بیٹی تھیں۔شادی سے پہلے بھی ان کا رشتہ تھا۔وہ بھی بڑے دیندار آدمی تھے۔امتہ الحفیظ صاحبہ کی پیدائش سے قبل ان کے والد نے رویا میں دیکھا تھا کہ نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی سواری آئی ہے اور ان کے سامنے رکی ہے۔ایک لڑکی باہر آئی ہے اور اس نے السلام علیکم کہا۔جس پر ان کی پیدائش کے وقت ان کا نام امتہ الحفیظ رکھ دیا اور یہ چونکہ جھنگ کے رہنے والے تھے اس لئے وہیں تعلیم حاصل کی اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے ساتھ نکاح پڑھایا تھا۔اس کے بعد جب ڈاکٹر صاحب یہاں آ گئے تھے تو ڈاکٹر صاحب کے ساتھ یہاں رہیں اور UK میں ان کی لجنہ میں کافی لمبا عرصہ خدمات ہیں۔تقریباً 28 سال بحیثیت صدر لجنہ UK انہوں نے خدمات انجام دیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے لجنہ کو آرگنا ئز کیا۔عورتوں کی تربیت کے لئے بڑے آرام سے پیار سے سمجھانے والی تھیں۔بڑی نرم مزاج تھیں اور مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔اسی طرح ان کا خلافت سے بڑا وفا اور اطاعت کا تعلق تھا۔بڑے نیک جذبات رکھتی تھیں اور بڑی عاجزی سے ملا کرتی تھیں۔اسی طرح نظام جماعت سے بھی بڑا والہانہ تعلق تھا۔بڑی سادہ صبر کرنے والی اور منکسر المزاج تھیں، بڑی دعا گو تھیں اور ایسے دعا کرنے والے لوگوں میں شامل تھیں جن کو میرا خیال ہے اور میرا ان کے ساتھ چند سال کا تجربہ ہے کہ ان کو دعا کے لئے کہو تو تسلی ہوتی تھی کہ دعا کے لئے کہا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت فرمائے۔ان کے درجات بلند فرمائے اور اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ان کے پسماندگان میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔انہوں نے اللہ کے فضل سے بچوں کی بھی اچھی تربیت کی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے بچوں کو بھی اپنے والدین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔( مطبوعه الفضل انٹرنیشنل لندن مورخہ 6 مارچ تا 12 اپریل 2007، ص 5 تا 7 )