خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 520 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 520

520 خطبہ جمعہ 21 دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم وجہ سے خدا تعالیٰ کے وجود سے لوگوں کو روشناس کروایا۔اللہ تعالیٰ کی ہستی لوگوں پر ظاہر فرمائی جس کو لوگ بھول چکے تھے۔ہر مذہب اور قوم ظاہری یا مخفی شرک میں مبتلا تھی اور ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم: 42) یعنی خشکی اور تری میں لوگوں میں کاموں کی وجہ سے فساد پڑا ہوا تھا۔اور وہ کام کیا تھے ؟ یہی کہ خدا کو دنیا بھول بیٹھی تھی۔بظاہر مذہب کا لبادہ اوڑھنے والے بھی خدا کو بھلا بیٹھے تھے اور ظاہری شرک نے بھی انتہا کی ہوئی تھی۔آج کل بھی یہی حالات ہیں۔ان حالات کا بھی ذکر میں بعد میں کسی وقت آئندہ خطبوں میں کروں گا۔تو آپ پر جو آیات اتریں ان کے ذریعہ سے ان لوگوں کو جو آپ کی پیروی کرنے والے تھے خدا تعالیٰ کی ذات کا ادراک پیدا ہوا۔ان کو اس ہستی پر یقین کامل ہوا کہ زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا کوئی خدا ہے۔ہر چیز کی پیدائش کے پیچھے کسی ہستی کا ہاتھ ہے جو خدا کی ذات ہے۔تو آپ نے یہ ادراک پیدا فرمایا کہ اس کو پہچانو اور اس کو پہچاننے کی یہ علامات ہیں۔حضرت ابراہیم کو یقینا اللہ تعالیٰ نے یہ نظارہ دکھا دیا ہوگا۔تبھی انہوں نے یہ دعا کی تھی کہ جب وہ وقت آئے تو جس طرح میں نے شرک کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے اور تیری توحید کو قائم کرنے کی کوشش کی ہے اے خدا ! جب وہ زمانہ آئے جو میرے وقت سے بھی زیادہ خطر ناک اور تو حید کو بھلانے والا زمانہ ہے اور اُس وقت دنیا پر تو اپنی ہستی اور اپنے وجود سے دنیا کو آگاہ کرنے کے لئے رسول بھیجے تو اے خدا ! وہ رسول میری نسل میں سے ہو۔وہ دنیا کو وہ علامتیں بتائے جن کے ذریعہ تیری پہچان دنیا کو ہو۔ایسے دلائل بتائے جن کو مان کر دنیا تیری تلاش کرے اور تو ان کو نظر آ جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے وہی دیکھ سکتے ہیں جو مجھے تلاش کرتے ہیں جیسا کہ فرمایا وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت: 70) اور وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم ان کو ضرور اپنے راستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے۔پس ملنے کے راستے دکھانے والے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کی علامتیں بتانے والے یہی عظیم رسول ہیں جن کا نام محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ والصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں صاف فرمایا ہے وَالَّذِینَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت :70) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے دروازوں کے کھلنے کے لئے مجاہدہ کی ضرورت ہے اور وہ مجاہدہ اسی طریق پر ہو جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے۔اس کے لئے آنحضرت ﷺ کا نمونہ اور اُسوہ حسنہ ہے۔بہت سے لوگ آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ دیتے ہیں اور پھر سبز پوش یا گیروے پوش فقیروں کی خدمت میں جاتے ہیں کہ پھونک مار کر کچھ بنادیں۔یہ بیہودہ بات ہے۔ایسے لوگ جو شرعی امور کی پابندیاں نہیں کرتے اور ایسے بیہودہ دعوے کرتے ہیں وہ خطرناک گناہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بھی اپنے مراتب کو بڑھانا چاہتے ہیں“۔(ملفوظات جلد چهارم صفحه 240 جدید ایڈیشن)