خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 511 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 511

511 خطبہ جمعہ 14 دسمبر 2007ء وہ خطبات مسرور جلد پنجم تھا کہ یا رسول اللہ ! کیا اپنے بھائیوں کو ماریں گے۔وہ ان ظلموں کو بھول چکے تھے جو مسلمانوں پر کئے جاتے تھے۔حضرت عمر تھے تو انہوں نے بظاہر آ نحضرت ﷺ کی خدمت میں یہی عرض کیا کہ ان کا فروں کو مار ہیں ، ان سے بدلہ لیں لیکن دل میں یہی کہتے ہوں گے کہ ہمارے بھائی ہیں۔اگر بخشے جائیں تو اچھا ہے۔اسی طرح حضرت عثمان ہیں علی ہیں یا باقی جو سردار تھے سب کی رشتہ داریاں اور ہمدردیاں کسی نہ کسی صورت میں مکہ کے رہنے والوں کے ساتھ تھیں۔صرف ایک شخص تھا جس کی مکہ میں کوئی رشتہ داری نہیں تھی۔جس کی ملکہ میں کوئی طاقت نہیں تھی۔جس کا مکہ میں کوئی ساتھی نہ تھا اور اس کی بیکسی کی حالت میں اس پر وہ ظلم کیا جاتا تھا جو نہ ابو بکر پہ ہوا، نہ حضرت عمر پہ ہوا ، نہ حضرت علی پر ہوا، نہ حضرت عثمان پر ہوا اور نہ آنحضرت ﷺ پر۔مکہ میں اس طرح ہوا کہ جلتی اور تپتی ہوئی ریت پر حضرت بلال کو ننگا لٹا دیا جاتا تھا۔ان کو نگا کر کے تپتی ریت پر لٹایا جاتا تھا۔پھر کیلوں والے جوتے پہن کر نو جوان ان کے سینے پر ناچتے تھے اور کہتے تھے کہ کہو خدا کے سوا اور کئی معبود ہیں۔کہو مد رسول اللہ جھوٹے ہیں ، (نعوذ باللہ ) اور جب وہ مارتے تھے تو بلال آگے سے اپنی حبشی زبان میں یہی کہتے تھے اَسهَدُ أن لا إله إلا الله، أَشْهَدُ اَنْ لا إِلهَ إِلَّا الله وشخص آگے سے یہی جواب دیتے تھے کہ جتنا مرضی ظلم کر لو میں نے جب دیکھ لیا کہ خدا ایک ہے تو دوکس طرح کہہ دوں اور جب مجھے پتہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو میں کس طرح کہوں کہ وہ نہیں ہیں ، وہ جھوٹے ہیں۔اس پر وہ انہیں اور مارتے تھے۔گرمیوں میں اور سردیوں میں بھی نگا کر کے پتھروں پر گھیسٹتے تھے۔اُن کی کھال زخمی ہو جاتی تھی۔چمڑا اکھڑ جاتا تھا لیکن وہ ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ اسهَدُ اَنْ لا إِلهَ إِلَّا الله، اَسْهَدُ اَنْ لا إِلهُ إِلَّا الله اور محمد اللہ کے سچے رسول ہیں۔تو حضرت بلال کے دل میں یہ خیال آ سکتا تھایا آیا ہو گا کہ آج ان بوٹوں کا بدلہ لیا جائے گا۔آج اُن ماروں کا معاوضہ مجھے ملے گا۔لیکن آنحضرت ﷺ نے جب ابوسفیان کو یہ فرمایا کہ جو تمہارے جھنڈے تلے آ جائے ، جو خانہ کعبہ میں آجائے ، دروازے بند کر لے ان سب کو معاف کیا جاتا ہے۔تو بلال کے دل میں یہ خیال آیا ہو گا کہ اپنے بھائیوں کو معاف کر رہے ہیں اچھا کر رہے ہیں لیکن میرا بدلہ کس طرح لیا جائے گا ؟ کیونکہ وہ دن ایسا تھا کہ اس دن صرف اس شخص کو تکلیف پہنچ سکتی تھی جس کا وہاں کوئی نہیں تھا اور جس پر بے انتہا ظلم ہوئے تھے۔تو آنحضرت ﷺ نے حضرت بلال کے بدلے کا ایک نیا طریقہ نکالا۔آپ نے فرمایا کہ حضرت بلال کے ظلموں کا میں بدلہ لوں گا اور ایسا بدلہ لوں گا کہ جس سے میری نبوت کی شان بھی باقی رہے اور بلال کا دل بھی خوش ہو جائے۔آپ نے فرمایا بلال کا جھنڈا کھڑا کرو اور مکہ کے سردار جو جوتیاں لے کر حضرت بلال کے سینے پر نا چا کرتے تھے، جو اُن کے پاؤں میں رسی ڈال کے انہیں گھسیٹا کرتے تھے، جو انہیں تپتی ریت پر لٹاتے تھے کہ کہہ دو کہ اللہ ایک نہیں ہے