خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 36
36 خطبہ جمعہ 26 جنوری 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جنت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اہل جنت تین قسم کے ہیں ایسا حاکم جو انصاف پسند ہو، کثرت سے صدقات کرنے والا ہو، عقلمند ہو۔اور ایسا آدمی جو رحم کرنے والا ہو، رشتے داروں اور مسلمانوں کے لئے نرم دل ہوا اور پھر تیسری یہ چیز بتائی تھی کہ ایسا آدمی جو محتاج ہو مگر سوال نہ کرے اور صدقہ کرنے والا ہو۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 مسند عیاض بن حماد حدیث نمبر 17623 ایڈیشن 1998ء (بیروت) ایک روایت میں آتا ہے۔نعمان بن بشیر کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ نے منبر پر فرمایا جو تھوڑے پر شکر ادا عليه و نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر ادا نہیں کرتا۔اور جولوگوں کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ خدا کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کا ذکر کر نا شکر ہے اور اسے ترک کرنا نا شکری ہے۔اور جماعت رحمت ہے اور علیحد گی عذاب ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6مسند نعمان بن بشیر حدیث نمبر 19565 ایڈیشن 1998ء بیروت) تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جس کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی اور اس ذریعہ سے پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو حاصل کرنے والے بنے۔تو اس شکر گزاری کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کا ایک زائد دروازہ ہم پر کھولا ہوا ہے، ہمیں اس تقاضے کو بھی پورا کرنا چاہئے جو انسانیت سے رحم کا تقاضا ہے اور وہ ہے دنیا کو اس پیغام کا پہنچانا جس کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے تھے اور پھر ان کے لئے دعائیں کرنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو راستی پر رکھے، سیدھے راستے پر چلائے اور حق کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔به وسلم مومنوں کے ایک دوسرے سے محبت اور رحم کے جذبات کے معیار کیا ہونے چاہئیں اور آنحضرت علی اللہ ہم سے اس بارے میں کیا توقع رکھتے ہیں، اس کا اظہار اس روایت سے ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ نے فرمایا تو مومنوں کو ان کے آپس میں رحم کرنے ، محبت کرنے اور شفقت کرنے میں ایک جسم کی طرح پائے گا۔جب جسم کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے تو اس کا سارا جسم اس کے لئے بے خوابی اور بخار میں مبتلا رہتا ہے۔(بخاری کتاب الادب باب رحمة الناس والبهائم۔حديث نمبر (6011 بیماری کی حالت میں ایک جسم کی جو یہ حالت ہے، وہی ایک مومن کی دوسرے مومن کے بارے میں ہونی چاہئے ، بجائے نقصان پہنچانے کے، کسی کی تکلیف کا احساس نہ کرنے کے، تکلیف کا احساس کرنا چاہئے اور اس کے لئے دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہونی چاہئے۔تو یہ اسلام کا معاشرہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے صدقے اس رحمتہ للعالمین نے ہمارے اندر پیدا کرنے کی ہمیں نصیحت فرمائی ہے۔