خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 441
خطبات مسر در جلد پنجم 441 44 خطبہ جمعہ 02 / نومبر 2007 ء فرمودہ مورخہ 02 نومبر 2007ء بمطابق 02 / نبوت 1386 ہجری شمسی به مقام مسجد فضل ،لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ سے اذن پا کر جب بیعت لینے کا اعلان فرمایا تو شرائط بیعت میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ آپ سے ہر بیعت کرنے والا ایسی عقد اخوت و محبت رکھے گا جس کی مثال کسی بھی دنیاوی رشتہ میں نہ ملتی ہو۔یعنی محبت، پیار، بھائی چارے اور خادمانہ حالت کا ایسا بے مثال تعلق ہو جس کا کوئی دنیا وی رشتہ اور تعلق مقابلہ نہ کر سکے۔کوئی بھی تعلق اگر مقابلے پر آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق کے مقابلہ میں اس کی ذرہ بھی وقعت نہ ہو۔یہ ایک ایسی شرط ہے جو سوائے اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کے نبھانی بہت مشکل ہے۔لیکن اس کے باوجود ہر وہ شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوایا آج ہو رہا ہے ، خوشی سے اس شرط پر آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق اور غلام کی بیعت میں آتا ہے اور کوئی خوف یا عذر اس بات پر نہیں ہوتا کہ یہ تعلق کس طرح نبھاؤں گا۔آج بھی اگر کسی احمدی کو کوئی تعزیر ہو یا نا راضگی کا اظہار ہوتو الا ماشاء اللہ بھی یہی لکھتے ہیں کہ ہم اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں اور بیوی بچوں سے تو جدائی برداشت کر سکتے ہیں لیکن جماعت سے علیحدہ رہنا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت سے با ہر نکلنا ہمیں برداشت نہیں۔تو یہ تعلق جیسا کہ میں نے کہا سوائے اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کے نبھانا مشکل ہے اور یہ جماعت کے ہر فرد پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیعت کیونکہ اللہ تعالیٰ سے اذن پا کر لی تھی، یہ جماعت کی کشتی بھی اللہ تعالیٰ کے منشاء اور حکم کے مطابق تیار ہوئی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے والے دلوں کو اس تعلق میں مضبوط بھی کرنا تھا اور محبت بھی اس قدر بڑھانی تھی کہ وہ تمام دنیاوی رشتوں سے زیادہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رشتے کو عزیز رکھیں۔آپ کے محبوں کا گروہ بڑھانے کا اللہ تعالیٰ کا آپ سے وعدہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین پر پھیلائے گا“۔(تجلیاتِ الهیه روحانی خزائن جلد 20صفحه 409