خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 406 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 406

406 خطبات مسرور جلد پنجم خطبه جمعه 05 اکتوبر 2007ء ایک پاکستانی سوئٹزرلینڈ میں ہیں ، احمدیت کا مطالعہ کر کے اور احمدیت کو سچ سمجھ کر بیعت کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے پاکستان میں اپنے عزیزوں سے اس بات کا اظہار کیا تو ایسی ایسی کہانیاں جن کا احمدیت سے دُور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ان کو احمدیت کے بارے میں سننے کو ملیں کہ حیرت ہوتی ہے۔یہ صرف ان نام نہاد علماء کی احمدیت کے بارہ میں غلط رنگ میں پھیلائی ہوئی باتوں کا اثر ہے جس کے پھیلانے کی انہیں وہاں کھلی چھٹی ہے، جو چاہے وہ احمدیت کے بارے میں کہیں اور احمد یوں پر پابندی ہے کہ تمہاری اصل تعلیم کیا ہے اس کا اظہار نہیں کر سکتے۔بلکہ اس شخص نے لکھا ہے کہ ایک قریبی عزیز نے اسے فون پر یہاں تک کہہ دیا کہ اگر تم واقعی سنجیدہ ہوتو پھر قتل ہونے کے لئے تیار ہو جاؤ کیونکہ تمہارے احمدیت قبول کرنے کے بعد میں وہ پہلا شخص ہوں گا جو تمہیں قتل کرے گا۔تو یہ حالات ہیں۔یہ ان لوگوں کی سوچ ہے۔کیا یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات پر عمل کرنے والوں کا کام ہے؟ کیا انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی اس غم اور غصے کی حالت کے اظہار کے بارے میں نہیں سنا جب آپ نے لڑائی کے دوران زیر ہونے کے بعد کلمہ پڑھنے والے شخص کے ایک مسلمان کے ہاتھ سے قتل ہونے پر فر مایا تھا کہ کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا کہ اس میں خالص کلمہ بھرا ہوا ہے یا بناوٹی کلمہ ہے۔دنیا میں ہر قسم کی طبائع ہوتی ہیں۔کمزور بھی ہیں، جرات والے بھی ہیں۔جو کمزور ہیں وہ تو ڈر جاتے ہیں لیکن جرات والے بہر حال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔کئی جرات والے باجود سختیوں کے سچائی قبول کرتے ہیں۔کئی جرات مند حق کے مقابلے پر کسی بھی ظلم کی پرواہ نہیں کرتے۔پس خوش قسمت ہیں وہ جو فرعونوں کو جرات کے ساتھ یہ جواب دیتے ہیں کہ فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضِ (طه: 73) پس جو تیرا زور لگتا ہے لگا لے إِنَّمَا تَقْضِي هَذِهِ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا (طه: 73) تو صرف اس دنیا کی زندگی کو ختم کر سکتا ہے۔پس وہ احمدی جن کو آج پاکستان میں شہید کیا جا رہا ہے ، ان کا بھی یہ جواب ہے ، اور ہر احمدی کا جو ایمان پر قائم ہے یہی جواب ہے۔اور جو نئے احمدی ہوتے ہیں اور شدید مخالفت کا سامنا کر رہے ہیں، ان سے بھی میں کہتا ہوں کہ دعاؤں سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں اور ہمیشہ یہ جواب دیں کہ فاللهُ خَيْرٌ حفظا (يوسف : 65) کہ اللہ سب سے بہتر ہے اور سب سے زیادہ قائم رہنے والا ہے۔اور جو بہتر ہے اور ہمیشہ قائم رہنے والا ہے وہ دشمنوں سے بھی نمٹے گا اور نیک اعمال کی جزا بھی دے گا۔ان کے جماعت میں شامل ہونے پر ان کو بہترین جزا دے گا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ جو چراغ اللہ تعالیٰ نے روشن کیا ہے، اسے انسانی پھونکیں بجھا نہیں سکتیں اور اللہ تعالیٰ اپنے اس چراغ کا نو رلوگوں پر اس طرح اتارتا ہے کہ دنیا کی تمام طاقتیں بھی جمع ہو کر اس کے مقابلے میں روکیں کھڑی کرنے کی کوشش کریں تو اس کو روک نہیں سکتیں۔وہ اس روشنی کو ، اس نور کو دلوں میں اترنے سے روک نہیں