خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 394 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 394

394 خطبات مسرور جلد پنجم خطبہ جمعہ 28 ستمبر 2007 ء عزیز سمجھے گا۔پس یہ ہے دین کو دنیا پر مقدم سمجھنا کہ ایک انسان ایک احمدی کو ، اپنے ہر عمل سے جو بھی عمل وہ کرتا ہے اس سے پہلے یہ خیال رہے کہ میں مسلمان ہوں۔میں وہ مسلمان ہوں جس نے آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کو بھی مانا ہوا ہے۔اس لئے میری یہ کوشش ہے کہ میرے سے کوئی ایسا کام سرزد نہ ہو جس سے دین کی عزت پر کوئی حرف آتا ہے۔مجھے اپنی اور اپنے خاندان سے زیادہ اللہ کے دین کی عزت پیاری ہے۔دین کی عزت کی خاطر اگر دنیاوی نقصان اٹھانا پڑے تو اس سے بھی دریغ نہیں کروں گا۔یہ عہد کرے ہر احمدی تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں بھی دعاؤں کو سنوں گا اور قبولیت دعا کے نظارے دکھاؤں گا۔پھر ساتویں بات یہ ہے کہ اپنی ایمانی اور عملی طاقت کو بڑھانے کے واسطے دعاؤں میں لگے رہو۔(الحکم جلد 9نمبر2مورخه 13/جنوری 1905ء صفحه 3) یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ ہیں اور مستقل مزاجی سے یہ حالت جاری رہنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی ایمانی اور عملی طاقت کو بڑھانے کے واسطے دعاؤں میں لگے رہو۔(ملفوظات جلد چهارم صفحه 207 جدید ایڈیشن) پس اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ فَلْيَسْتَجِيْبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بنی یعنی چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔اس بات کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی عملی حالتوں کو سنوارنے کی اور بڑھانے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنی ایمانی حالتوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کا زیادہ سے زیادہ قرب پانے کے لئے بھی دعاؤں کی ضرورت ہے اور یہ ایک ایسی دعا ہے جو باقی دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ بنتی ہے۔مومن کا قدم ایک جگہ پر رک نہیں جاتا۔جب ایک مومن نیک اعمال بجالاتا ہے تو ان میں بھی مختلف درجے ہیں۔ترقی کا میدان کھلا ہے۔ایک مومن جب ایمان لاتا ہے تو ایمان میں بڑھنے کے درجے ہیں۔پس دعاؤں کی قبولیت کے لئے ان درجوں میں بڑھنے کی کوشش اور دعا ہونی چاہئے۔جتنے درجے بڑھیں گے اتنا خدا کا قرب حاصل ہوگا ، اتنی جلدی بندے کو اس کی پکار کا جواب ملے گا۔پھر آٹھویں بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو قانون قدرت بنایا ہوا ہے اس کے اندر رہتے ہوئے دعا ہو تو وہ دعا سنی جاتی ہے۔اگر اس سے باہر ہے تو وہ دعا قبولیت کا درجہ نہیں رکھتی۔جتنا بھی انسان چیختا چلاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں تمہاری وہی دعائیں سنوں گا جو میری تعلیم اور قانون کے اندر رہتے ہوئے ہوں۔پس دعاؤں کی قبولیت کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری ضروری شرط ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقوق العباد ادا کرو۔ایک حکم یہ ہے۔حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے قرآن کریم میں اس کے مختلف احکامات ہیں۔لیکن اگر ایک انسان دوسرے کے حقوق غصب کر رہا ہو اور پھر اللہ سے مانگے کہ میں تو دوسروں کے حقوق غصب کر رہا ہوں پر تو مجھ پر رحم فرما تو یہ دعا قبول نہیں ہوتی۔