خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 373
خطبات مسرور جلد پنجم 373 (37) خطبہ جمعہ 14 ستمبر 2007 ء فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2007ء بمطابق 14 رتبوک 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد، تعوذ وسورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصَّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة: 184) اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے اسی طرح فرض کر دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تا کہ تم تقوی اختیار کرو۔یہ ہے روزوں کی فرضیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور حکم۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس سال پھر ہمیں موقع دیا کہ اس نے ہماری روحانی ترقی کے لئے جو بہترین انتظام فرمایا ہوا ہے اس میں شامل ہورہے ہیں۔گنتی کے یہ چند دن ، جوکل سے شروع ہوئے ، ان میں سے گزر رہے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق اگر ہم نے تقوی میں ترقی کرنی ہے، اللہ تعالیٰ کا قرب پانا ہے، اپنی دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دلوانا ہے، اپنی دینی ، اخلاقی اور روحانی حالت بہتر کرنی ہے تو ان دنوں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، یہ روزے جو تم پر فرض کئے گئے ہیں یہ روحانیت میں ترقی اور تقویٰ میں بڑھنے کے لئے انتہائی ضروری ہیں اور دنیا میں پہلے بھی انبیاء کے ماننے والوں کی روحانی ترقی کے لئے ، ان کے تزکیہ نفس کے لئے ، ان کو خدا تعالیٰ کا قرب دلانے کے لئے یہ فرض کئے گئے تھے۔پس یہ ایک اہم حکم ہے۔اس کی پابندی ہی ہے جو ہمیں تقوی کے معیاروں کو اونچا کرنے والی بنائے گی۔پہلے انبیاء کے ماننے والوں نے بھی اللہ تعالیٰ کا قرب پایا اور اس کے فضلوں کے وارث ہوئے ، جنہوں نے بے چون و چراں خدا تعالیٰ کے حکموں کی پابندی کی۔جب بھی خدا تعالیٰ نے اپنے احکامات کسی نبی پر اتارے جب دنیا کی اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنے رسول بھیجے، وہی لوگ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے اور اس کے احکامات سے حصہ لینے والے بنے جنہوں نے اُن بھیجے ہوؤں کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہوئے اس تعلیم پر عمل کیا اور اُن احکامات پر چلتے رہے جو اللہ تعالیٰ نے اُن پر اتارے تھے اور اپنے تقویٰ کے معیاروں کو بڑھاتے رہے۔جب انکاری ہوئے تو جہاں روحانی معیار گرے وہاں دنیا وی طور پر بھی شان و شوکت کھو بیٹھے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کا ذکر بھی فرمایا ہوا ہے۔پس اللہ تعالیٰ جب انبیاء کے ماننے والوں کو تقویٰ پر چلنے کی تلقین کرتا ہے تو یہ بھی فرماتا ہے کہ تم تقویٰ کے اعلیٰ معیار حاصل کر کے دنیا و آخرت کے