خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 26

26 خطبہ جمعہ 19 /جنوری 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم کو بھیج کر یہ احسان عظیم ہم پر کیا ہوا ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی دوسری صفات بھی ہیں اور جب انسان صفت رحمانیت کی حدود سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر ایسی صفات بھی اپنا جلوہ دکھاتی ہیں جن میں سختی بھی ہے۔مثلاً جیسے اللہ تعالیٰ کی صفت جبار بھی ہے قہار بھی ہے تو جب انسان با وجود اللہ تعالیٰ کے انعاموں اور احسانوں کے احسان فراموشی کرتا چلا جائے گا تو بعض دفعہ پھر اللہ تعالیٰ کی ان حدود کو پھلانگے گا جہاں جانے سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ قہری جلوے بھی دکھاتا ہے۔اس کا میں پہلے بھی ذکر کر آیا ہوں کہ پھر وہ جلوہ زلزلوں اور دوسری آفات کی صورت میں بھی ہوتا ہے۔یہاں صفت رحمانیت پر اعتراض نہیں آتا بلکہ انسان کے یہ اپنے اعمال کا نتیجہ ہے جب وہ شر پر اصرار کرتا چلا جائے گا،شہر سے باز نہیں آئے گا تو پھر اللہ تعالیٰ سزا بھی دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: پس آدمی کو لازم ہے کہ تو بہ واستغفار میں لگا رہے اور دیکھتا رہے۔ایسا نہ ہو بداعمالیاں حد سے گزر جاویں اور خدا تعالیٰ کے غضب کو کھینچ لاویں۔پھر آپ فرماتے ہیں: وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهُ (الزلزال : 9) یعنی جو شخص ایک ذرہ بھی شرارت کرے گا وہ اس سزا کو پائے گا۔یہ لکھ کے آپ فرماتے ہیں کہ : ” پس یادر ہے کہ اس میں اور دوسری آیات میں کچھ تناقض نہیں ہے کیونکہ اس شر سے وہ شرمراد ہے جس پر انسان اصرار کرے۔یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے کہ میں بخشوں گا میں رحمان ہوں اور یہاں شر کی سزا دے رہا ہے۔بلکہ فرماتے ہیں کہ یہاں شہر سے مراد ایسا شر ہے جس پر انسان اصرار کرتا رہے اور اس کے ارتکاب سے باز نہ آوے اور توبہ نہ کرے، اسی غرض سے اس جگہ شر کا لفظ استعمال کیا ہے نہ ذنب کا۔تا معلوم ہو کہ اس جگہ کوئی شرارت کا فعل مراد ہے جس سے شریر آدمی باز آنا نہیں چاہتا ورنہ سارا قرآن شریف اس بارے میں بھرا پڑا ہے کہ ندامت اور توبہ اور ترک اصرار اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ تو بہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے“۔(چشمۀ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحه 24 پس اللہ تعالیٰ تو بن مانگے احسان کرنے والا ہے۔مانگنے والے کو تو بے شمار نوازتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی الله بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ پڑھنے لگے تو رحمن ، بِسْمِ کا لفظ جب آپ کے مبارک منہ سے نکلتا تھا تو آپ بے چین ہو کر ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگتے تھے اور آنکھوں سے آنسورواں ہو جاتے تھے۔کئی مرتبہ ایسا ہوا، آخر کسی صحابی نے جو وہاں موجود تھے پوچھا کہ حضور! اس طرح بے چین ہونے کی وجہ کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ جب میں رحمن لفظ پہ پہنچتا ہوں تو اس لفظ پر پہنچ کر اللہ تعالی کے اپنی مخلوق پر بے شمار انعاموں اور احسانوں کو یاد کر کے اس بات پر بے چین ہو جاتا ہوں کہ پھر بھی لوگ اس رحمن خدا کی سزا کے مورد بنتے ہیں تو یہ کس قدر ان کی بد بختی ہے۔(دروس الشيخ عائض القرنى جزء 128 صفحه 4 المكتبة الشاملة (CD