خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 356 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 356

356 خطبہ جمعہ 31 اگست 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم ہے۔پس ان دنوں میں خوب دعائیں کریں، اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑیں، ذکر خدا پر زور دیں اور ظلمت دل مٹاتے جائیں۔یہاں بہت سی علمی ، تربیتی اور روحانی بہتری پیدا کرنے کے لئے تقاریر ہوں گی انہیں سنیں۔اللہ تعالیٰ کے حضوران تقریروں کو سنتے ہوئے یہ عہد کریں اور مدد مانگیں کہ اے خدا ہم نیک نیت ہو کر تیرے مسیح کے بلانے پر دلوں کی اصلاح کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔لیکن یہ اصلاح ہم اپنے زور بازو سے نہیں کر سکتے ، تیری مدد کی ضرورت ہے۔اگر اِيَّاكَ نَسْتَعِین کی دعا سنتے ہوئے تُو نے ہماری مدد نہ کی تو ہم تیری عبادت کے معیار حاصل نہیں کر سکتے۔پس اے میرے پیارے خدا تجھ کو تیرا ہی واسطہ کہ ہمیں ضائع ہونے سے بچا۔جس نیک مقصد کے لئے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں اس سے وافر حصہ ہمیں عطا فرما کہ تیرے فضل کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں۔ہمارے دلوں کو اتنا پاک اور صاف کر دے کہ جو کچھ ہم سنیں اس سے صرف علمی اور ادبی حظ اور لطف نہ ٹھا ئیں بلکہ ان تربیتی اور روحانی معیاروں کو اونچا کرنے والی باتوں کو ہم اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے والے ہوں، ان پر عمل کرنے والے ہوں ، ان کو اپنی نسلوں میں جاری کرنے والے ہوں۔پس جب ہم نیک نیت ہو کر جلسے کے پروگراموں سے فیض اٹھانے کی کوشش کریں گے، دعائیں کرتے ہوئے تمام نیک باتوں کو اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے کی کوشش کریں گے تو تبھی ہم اپنی زندگیوں میں انقلاب لانے والے بن سکیں گے۔اس انقلاب سے حصہ لینے والے بن سکیں گے جس انقلاب کے لانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام مبعوث ہوئے تھے اور پھر دنیا میں بھی انقلاب لانے والے بنیں گے انشاءاللہ۔پس اس انقلاب کے لئے بنیادی اور سب سے اہم چیز دعا اور ذکر الہی ہے جب یہ عادت ہم اپنے اندر پیدا کرلیں گے اور خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے پیدا کر لیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق ، اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے احکامات کے مطابق ہم مزید احکامات پر بھی عمل کریں گے۔حقوق العباد ادا کرنے والے بھی بن جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جلسے کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ جمع ہونے سے آپس میں تو ڈ دو تعارف بڑھے گا۔اس مقصد کو حاصل کرنے والے بنیں گے تو تو ڑ دو تعارف کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ آپس کی محبت اس تعارف سے پیدا ہو۔تو جب نئے تعلقات کو فروغ دیا جائے گا اور ایک دوسرے سے محبت بڑھانے کے سامان کئے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے پرانے تعلقات میں پہلے سے بڑھ کر بہتری پیدا کرنے کی کوشش ہوگی۔اگر کسی وجہ سے کوئی رنجشیں پیدا ہو چکی ہیں تو انہیں دُور کرنے کی کوشش ہوگی ، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے نہ صرف فضول گوئی اور بد کلامی سے بچے رہیں گے بلکہ پیار اور محبت پیدا کر رہے ہوں گے۔نہ صرف لڑائی جھگڑوں سے بیچ رہے ہوں گے بلکہ پرانے لڑائی جھگڑوں پر ایک دوسرے سے معذرتیں اور