خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 281 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 281

خطبات مسرور جلد پنجم 281 خطبہ جمعہ 06 جولائی 2007ء پھر کہتے ہیں کہ۔۔۔اور جو قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کے لئے آیا ہے کہ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ مومنوں کی تصدیق کرتا ہے۔بعض نے کہا ہے کہ اللہ کی صفت المومن کے معنی ہیں جو اپنے بندوں سے کئے ہوئے وعدے سچ کر دکھائے۔جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا، مومن وہ ہیں جو کامل ایمان والے ہیں۔تمام انبیاء پر ایمان لانے والے ہیں اور یہ تمام انبیاء پر ایمان لانے کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے ہمیں آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے دی۔ابو العباس کے اس اقتباس نے اسے مزید کھولا ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ ایک احمدی جو دراصل تمام انبیاء کی تصدیق کرنے والا ہے، ان کو ماننے والا ہے۔وہی ہے جو حقیقی رنگ میں مومن ہے۔آنحضرت ﷺ کو گواہ ٹھہرایا گیا ہے پہلے انبیاء پر بھی اور بعد میں آنے والے پر بھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اللہ جلثا نہ نے اسلامی امت کے گل لوگوں کے لئے ہمارے نبی ﷺ کو شاہد ٹھہرایا ہے اور فرما یلانَا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ (المزمل: 16) اور فرمایا وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَائِ شَهِيدًا (النساء :42) مگر ظاہر ہے کہ ظاہری طور پر تو آنحضرت صرف تئیں برس تک اپنی امت میں رہے، پھر یہ سوال کہ دائمی طور پر وہ اپنی اُمت کے لئے کیونکر شاہد ٹھہر سکتے ہیں یہی واقعی جواب رکھتا ہے کہ بطور استخلاف کے یعنی موسی " کی مانند خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے لئے بھی قیامت تک خلیفے مقرر کر دیئے اور خلیفوں کی شہادت بعینہ آنحضرت ﷺ کی شہادت متصور ہوئی۔غرض شہادتِ دائمی کا عقیدہ جو نص قرآنی سے بتواتر ثابت اور تمام مسلمانوں کے نزدیک مسلّم ہے تبھی معقولی اور تحقیقی طور پر ثابت ہوتا ہے جب خلافت دائمی کو قبول کیا جائے۔شہادت القرآن۔روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 363) پس ہم احمدی اس ایمان پر قائم ہیں، ایک تو آخرت میں تصدیق ہوئی ہے جو ایمان بالغیب پر یقین کرتے ہوئے ہوتی ہے۔دوسرے آنحضرت ﷺ کے بعد کے زمانے کی تصدیق بھی آنے والے کو ماننے پر ہونی ہے جو خاتم الخلفاء ہے۔یہ مہر ہے جو کامل الایمان پر آنحضرت ﷺ کی تصدیق کی لگے گی۔احمدی کی تصدیق اس اعزاز کے ساتھ ہوگی کہ ہاں اس نے پہلوں کو بھی مانا اور بعد میں آنے والوں کو بھی مانا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے پاس ایک شخص آیا تھا۔اس نے کچھ کہا تھا تو آپ نے فرمایا بس کر اب تو میں اپنی ہی امت پر گواہی دینے کے قابل ہو گیا ہوں۔مجھے فکر ہے کہ میری امت کو میری گواہی کی وجہ سے سزا ملے گی۔الحکم جلد 7 نمبر 9 مورخہ 10 مارچ 1903 ، صفحہ 11)