خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 78
78 خطبہ جمعہ 23 فروری 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم میں ہوتے تو نعوذ باللہ دہشت گرد قرار دے کر ملک سے نکالتا۔تم نے کیا نکالنا ہے، ہم تو انشاء اللہ تعالیٰ وہ زمانہ دیکھنے والے ہو جب محمد رسول اللہ ﷺ کے نام لیواؤں کی اکثریت ہر جگہ دیکھو گے۔آنحضرت ﷺ کے دعوئی سے لے کر آج تک کیا کیا کوششیں ہیں جو آپ کے مخالفین نے نہیں کیں۔کیا وہ کامیاب ہو گئے ؟ آج دنیا میں ہر جگہ، ہر ملک میں ، چاہے وہاں مسلمانوں کی تعداد تھوڑی ہے یا زیادہ ہے روزانہ پانچ وقت بلند آواز سے اگر کسی نبی کا نام پکارا جاتا ہے تو وہ اس رحمتہ للعالمین کا نام ہے۔جس کا دل با وجودان مخالفتوں اور مخالفین کی گھٹیا حرکتوں کے انسانیت کا حق ادا کرنے کے ناطے ہر وقت ہر ایک کے لئے ہمدردی کے جذبات سے پر تھا۔پھر کہتا ہے کہ قرآن کے احکامات ایسے ہیں کہ نعوذ باللہ آدھا قرآن پھاڑ کر علیحدہ کر دینا چاہئے۔ان صاحب سے کوئی پوچھے کہ تم عملاً تو لا مذہب ہو لیکن جن مذاہب کو اسلام سے بہتر سمجھتے ہو، ان کی تعلیم کا قرآن کریم کی تعلیم سے موازنہ تو عقل کی آنکھ سے کر کے دیکھو۔تعصب سے پاک نظر کر کے پھر قرآن کا مطالعہ کرو اور پھر سمجھ نہ آئے تو ہم سے سمجھو کہ جہلاء کو اس پاک کلام کی سمجھ نہیں آسکتی۔قرآن کریم کا تو دعوی ہے کہ پہلے اپنے دلوں اور اپنے دماغوں کو پاک کرو تو پھر اس پاک تعلیم کی سمجھ آئے گی ورنہ تمہارے جیسے جہلاء تو پہلے بھی بہت گزر چکے ہیں جو اعتراض کرتے چلے گئے۔وہ بھی ابوالحکم کہلاتا تھا جس کا نام قرآن نہ سمجھنے کی وجہ سے ابو جہل پڑا۔اور وہ غریب مزدور، وہ غلام جو دنیا کی نظر میں عقل اور فراست سے عاری تھے اس قرآن کو سمجھنے کی وجہ سے علم و عرفان پھیلانے والے بن گئے۔پس ہم تمہیں اتمام حجت کے لئے اس رؤف اور رحیم نبی کے حوالے سے توجہ دلاتے ہیں کہ وہ تم جیسے لوگوں کو بھی آگ کے عذاب سے بچانے کے لئے بے چین رہتا تھا۔اس کی باتوں کو خورا اور تدبر سے پڑھو اور دیکھو، پرکھو، مجھ اور سمجھ نہ آئے تو ہم سے پوچھو اور اپنے آپ کو اُس دردناک عذاب سے بچاؤ جو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لئے تیار کیا ہوا ہے۔جو حد سے بڑھنے والوں کے لئے مقدر ہے۔اللہ کرے کہ اس قسم کی باتیں کرنے والے، یہ لوگ عقل کے ناخن لینے والے ہوں اور سمجھنے والے ہوں۔لیکن یہ احمدیوں کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ اس رؤف و رحیم نبی کی زندگی کے ہر حسین لمحے کی تصویر ان لوگوں تک پہنچائیں۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ، جسے اللہ تعالیٰ نے رؤف و رحیم قرار دیا تھا، انہوں نے دہشت گردی کی تعلیم دی ہے۔ان کو بتائیں کہ اسلام کی جنگوں میں عورتوں، بچوں ، بوڑھوں کے ساتھ کیا نرمی اور احسان اور رحم کے سلوک کی اسلام کی تعلیم ہے۔جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا رحم کی تعلیم ہے۔اپنے آپ کو مشقت میں ڈال کر قیدیوں کے لئے رحم کے جذبات تھے۔وہ قیدی جو جنگی قیدی تھے ، جو جنگ میں اس غرض سے شریک تھے کہ مسلمانوں