خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 76 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 76

خطبات مسرور جلد پنجم 76 خطبہ جمعہ 23 فروری 2007ء زیادہ سے زیادہ سمیٹنے والے بنو۔پھر مومنوں کے لئے رحمت بننے کے لئے آپ کے حریص ہونے کی انتہا دیکھیں۔ایک روایت میں آتا ہے ، حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے اللہ ! جس مومن کو میں نے سخت الفاظ کہے ہوں تو تو اس بات کو قیامت کے دن اس شخص کے لئے اپنے قریب ہونے کا ایک ذریعہ بنا دے۔(صحیح بخاری کتاب الدعوات باب قول النبى عال من آذيته فاجعله له زكاة و رحمة۔حديث نمبر 6361) | صلى الله یعنی میری تختی بھی اس کے لئے رحمت بن جائے۔تو اس حد تک آپ رؤف اور رحیم تھے کہ کہیں غلطی سے بھی یا ارادہ بھی اگر کسی وجہ سے کسی کو کچھ کہہ دیا ہے تو اس کی بھی سزا نہ ہو بلکہ وہ رحمت کا ذریعہ بن جائے۔پس یہ ہیں ہمارے نبی ، جو رؤف اور رحیم ہیں۔جن کو اللہ تعالیٰ نے رؤف اور رحیم کا نام دیا ہے جو اپنوں کے معیار بلند کرنے کے لئے بھی بے قرار ہیں اور غیروں کو بھی عذاب سے بچانے کے لئے بے قرار ہیں۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " جذب اور عقد ہمت ایک انسان کو اس وقت دیا جاتا ہے جبکہ وہ خدا تعالیٰ کی چادر کے نیچے آجاتا ہے، اور ظل اللہ بنتا ہے اور پھر وہ مخلوق کی ہمدردی اور بہتری کے لئے اپنے اندر ایک اضطراب پاتا ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ میں گل انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے اس لئے آپ مخلوق کی تکلیف دیکھ نہیں سکتے تھے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُم یعنی یہ رسول تمہاری تکالیف کو دیکھ نہیں سکتا۔وہ اس پر سخت گراں ہے اور اسے ہر وقت اس بات کی تڑپ لگی رہتی ہے کہ تم کو بڑے بڑے منافع پہنچیں“۔(الحكم جلد 6 نمبر 26 صفحه 6 مورخه 24/جولائی 1902ء) پھر آپ فرماتے ہیں : ” تعلیم قرآنی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ نیکوں اور ابرار اخیار سے محبت کرو اور فاسقوں اور کافروں پر شفقت کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمُ (التوبة: 128) یعنی اے کا فروا یہ نبی ایسا مشفق ہے جو تمہارے رنج کو دیکھ نہیں سکتا اور نہایت درجہ خواہشمند ہے کہ تم ان بلاؤں سے نجات پاؤ“۔نور القرآن نمبر 2 روحانی خزائن جلد 9 صفحه (433 پس جیسا کہ ہم دیکھ آئے ہیں کہ آپ کی خواہش کا فروں کو بھی ان بلاؤں سے نجات دلانے کے لئے اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ اُن کے ایمان نہ لانے پر آپ نے اُن کی ہمدردی میں اپنی جان کو ہلکان کیا ہوا تھا۔پس یہ ہے وہ انسان کامل جس کی ہمیں کہیں اور مثال نہیں ملتی۔