خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 75 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 75

75 خطبہ جمعہ 23 فروری 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم ہو ہو کر ان کے سیدھے راستے پر آنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتے اور دعائیں کرتے ہیں اور ان کو پیغام حق پہنچاتے ہیں۔لوگوں کو بتاتے ہیں کہ کیوں اپنی دنیا و آخرت خراب کرنے کے درپے ہو؟ کیوں اپنے آپ کو جہنم کی آگ میں جھونک رہے ہو؟ اس حد تک حالت پہنچ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ إِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا ( الكهف : 7) پس اگر وہ اس عظیم الشان کلام پر ایمان نہ لائیں تو کیا تو اُن کے غم میں شدت افسوس کی وجہ سے اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال دے گا ؟ پس یہ سراسر رحمت کے جذبات لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لئے تھے اس فکر میں تھے جس نے آپ کی یہ حالت کر دی تھی کہ اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال رہے تھے۔آج کوئی بتائے کہ کیا کبھی کسی کے حقیقی باپ کو بھی اپنے بچوں کی دنیا و عاقبت سنوار نے کے لئے اتنی فکر ہوتی ہے جتنی آپ کو ان لوگوں کے لئے تھی جن سے آپ کا رشتہ صرف یہ تھا کہ وہ آپ کے پیارے خدا کی مخلوق ہیں۔اور اللہ کا اپنی مخلوق سے جو تعلق ہے اور ان کو شیطان کے پنجے سے بچانے کے لئے جو اس نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے ، اس کا حق ادا کرنے والے بن سکیں۔صرف یہ آپ کی غرض تھی۔اور پھر مومنوں کے لئے بھی آپ کتنے حریص رہتے ہیں اس کا اظہار بھی اس آیت میں ہے۔ایمان لانے والوں کو دیکھ کر آپ کو بڑی خوشی ہوتی تھی اور ان کو مختلف طریقوں سے اللہ تعالیٰ کا پیار اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے آپ رہنمائی فرمایا کرتے تھے۔ہر وقت یہ فکر تھی کہ میرے ماننے والے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی چادر میں لیٹے رہیں۔حدیث میں سے ایک دو مثالیں دیتا ہوں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا، آپ مجھے کوئی دعا سکھائیں جو میں نماز میں کیا کروں۔آپ نے فرمایا تو کہہ اے اللہ! یقینا میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے۔تو اپنی جناب سے میری مغفرت فرما اور مجھے رحمت سے نواز۔یقیناً تو ہی غفور اور رحیم ہے۔(بخاری کتاب الاذان باب الدعاء قبل السلام حدیث نمبر (834 | پھر ایک اور روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فرشتے تم میں سے اس شخص کے لئے جو نماز والی اپنی اس جگہ پر رہتا ہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہو، بشر طیکہ وہ کوئی نا گوار بات نہ کرے، یہ دعا مانگتے ہیں کہ اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ اس پر رحم فرما۔(بخاری کتاب الصلوة باب الحدث في المسجد۔حديث نمبر (445) | تو یہ بھی ترغیب دلانے کے لئے ہے کہ نمازوں کی طرف آؤ اللہ کی بخشش اور رحمت طلب کرو۔اللہ کے پیار کو