خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 73 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 73

خطبات مسرور جلد پنجم 73 8 خطبہ جمعہ 23 فروری 2007ء فرمودہ مورخہ 23 فروری 2007 ء بمطابق 23 تبلیغ 1386 ہجری کشی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُ وَقَ رَّحِيم۔(التوبة: 128) جیسا کہ ہم جانتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی ہستی کو اپنی صفات سے ہم پر ظاہر فرماتا ہے اور مومن بندوں کو بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا رنگ پکڑو، میرے رنگ میں رنگین ہو۔میری صفات اختیار کر وہ تبھی تم میرے حقیقی بندے کہلا سکتے ہو۔اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی اعلیٰ ترین مثال کوئی شک نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے علاوہ کسی اور فرد میں نہیں پائی جاسکتی۔کیونکہ آپ ہی اللہ تعالیٰ کے وہ پیارے ہیں جس کے نور سے ایک دنیا نے فیض پایا، فیض پارہی ہے اور انشاء اللہ فیض پاتی چلی جائے گی تا کہ اپنے پیدا کرنے والے کی پہچان کر سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔وہ انسان جس نے اپنی ذات سے، اپنی صفات سے، اپنے افعال سے، اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قومی کے پُرزور دریا سے کمال تام کا نمونہ علماً وعملاً وصدق وثباتا دکھلایا اور انسان کامل کہلایا۔وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا“۔وہ قیامت کیا تھی۔مُردوں کو زندہ کرنے والی تھی۔وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء، امام الاصفیاء، ختم المرسلین، فخر النبين جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اے پیارے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا۔اَللهُمَّ صَلَّ وَسَلّمُ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالِهِ وَاَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ “۔ہو۔اتمام الحجة على الذى لجّ وزاغ عن المحجّة۔روحانی خزائن جلد 8 صفحه 308 پس یہ ہیں ہمارے نبی ﷺ جنہوں نے خدا تعالیٰ سے محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو کر اللہ تعالیٰ کی صفات کا حقیقی پر تو بن کر دکھایا۔