خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 69 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 69

خطبات مسرور جلد پنجم 69 خطبہ جمعہ 16 فروری 2007ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کو سمیٹنے کے لئے صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کوشش کی ، ملک بدر ہوئے، مالی نقصانات برداشت کرنے پڑے، جہاد کرنا پڑا، سب کچھ ہوا۔اور پھر ان قربانیوں کو ایسے پھل لگے کہ آج ہم دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔انہوں نے اپنے نفس کی بھی اصلاح کی ، اپنی برائیوں کو ترک کیا، نیکیوں کو اختیار کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو پہنچانے کے لئے اعلیٰ قربانیاں دیں۔پس ہم میں سے آج بھی وہی لوگ خوش قسمت ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے والے ہیں جو اس اصول کو سمجھے ہوئے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ جیسا کہ فرماتا ہے ، وہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اگر ہم اپنی غلطیوں کا احساس کرتے ہوئے اس کے آگے جھکنے والے اور اس کے دین کی سر بلندی کے لئے قربانی اور کوشش کرنے والے ہوں گے تو یقینا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ پانے والے ہوں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسی کوشش کو کبھی ضائع نہیں کرتا جو نیک نیتی سے اس کی خشیت دل میں رکھتے ہوئے اس کی خاطر کی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” عادت الہیہ اس طرح پر جاری ہے کہ وہ اس کی کوششوں کو ضائع ہونے نہیں دیتا بلکہ ان کوششوں پر ثمرات حسنہ مترتب کرتا ہے“۔براهین احمدیه روحانی خزائن جلد 1 صفحه 422 حاشیه نمبر (11) اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اپنی رحیمیت سے ہمیشہ حصہ دیتا چلا جائے۔اور ہر احمدی کو ایسی توفیق دیتا ر ہے کہ وہ ایسی ثمر آور کوشش کرنے والا ہو ، جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو حاصل کرنے کا باعث بنتی رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں۔تیسری قسم فیضان کی فیضانِ خاص ہے۔اس میں اور فیضان عام میں یہ فرق ہے کہ فیضان عام میں مستفیض پر لازم نہیں کہ حصول فیض کے لئے اپنی حالت کو نیک بناوے“۔جو اللہ تعالیٰ کے فیض ہیں ، اس میں دو قسم کے فیض ہیں، ایک خاص اور ایک عام۔عام تو رحمانیت کی صورت میں ہے اور خاص رحیمیت کی صورت میں ہے۔فرمایا کہ رحمانیت کے لئے ضروری نہیں ہے کہ ضرور نیکیوں کو اختیار کرنا ہے اور اپنی حالت کو بدلنا ہے۔فرمایا " فیضان عام میں مستفیض پر لازم نہیں کہ حصول فیض کے لئے اپنی حالت کو نیک بناوے اور اپنے نفس کو مجب ظلمانیہ سے باہر نکالے“ یعنی نفس کو جو اندھیرے میں چھپا ہوا ہے اس سے باہر نکالے۔یا کسی قسم کا مجاہدہ اور کوشش کرے بلکہ اس فیضان میں خدائے تعالیٰ آپ ہی ہر ایک ذی روح کو اس کی ضروریات جن کا وہ حسب فطرت محتاج ہے عنایت فرماتا ہے اور بن مانگے اور بغیر کسی کوشش کے مہیا کر دیتا ہے۔لیکن فیضان خاص میں جہد اور کوشش اور تزکیہ قلب اور دُعا اور تضرع اور توجہ الی اللہ اور دوسرا ہر طرح کا مجاہدہ جیسا کہ موقعہ ہو شرط ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحیمیت حاصل کرنی ہے تو اس کے لئے کوشش کرنی پڑتی ہے۔اپنے دلوں کو صاف کرنا پڑتا 66