خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 45

45 خطبہ جمعہ 02 فروری 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم تو حضرت اقدس متعدد مرتبہ اپنی جماعت مقیم قادیان کو لے کر اس کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے تھے اور جب جاتے تھے تو قدرتی طور پر بعض لوگوں کو اس تعفن اور بد بو سے سخت تکلیف ہوتی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود بھی تکلیف محسوس کرتے تھے اور بہت کرتے تھے۔عرفانی صاحب لکھتے ہیں اس لئے کہ فطرتی طور پر یہ وجود نظافت اور نفاست پسند واقع ہوا تھا۔مگر اشارہ یا کنایہ نہ تو اس کا اظہار کیا اور نہ اس تکلیف نے آپ کو ان کی عیادت اور خبر گیری کے لئے تشریف لانے سے کبھی روکا۔آپ جب جاتے تو اس سے بہت محبت اور دلجوئی کی باتیں کرتے۔اور اس کی مرض اور اس کی تکلیف وغیرہ کے لئے بہت دیر تک دریافت فرماتے اور تسلی دیتے اور ادویات وغیرہ بھی بتاتے ، توجہ الی اللہ کی بھی ہدایت فرماتے۔کہتے ہیں کہ وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے ایک معمولی زمیندار تھا اور یہ کہنا بالکل درست ہے کہ آپ کے زمینداروں میں ہونے کی وجہ سے وہ گویا رعایا کا ایک فرد تھا۔لیکن آپ نے کبھی تفاخر اور تفوق کو پسند نہ فرمایا۔اس کے پاس جاتے تھے تو اپنا ایک عزیز بھائی سمجھ کر جاتے تھے اور اس طرح پر باتیں کرتے تھے اور اس کے علاج کے متعلق دلچسپی لیتے تھے اور صاف طور پر کہتے تھے، دوسرے دیکھنے والے بھی کہتے تھے کہ کوئی عزیزوں کی خبر گیری بھی اس طرح نہیں کرتا جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے۔رض (ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه 172-173) پھر حضرت یعقوب علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صاحب لکھتے ہیں کہ عیادت کے لئے باوجودیکہ آپ تشریف لے جاتے تھے لیکن یہ بھی ایک صحیح واقعہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے قلب کو مخلوق کی ہمدردی اور غمگساری کے لئے جہاں استقلال سے مضبوط کیا ہوا تھا وہاں محبت اور احساس کے لئے اتنار قیق تھا ( اتنا نرم کیا ہوا تھا ) کہ آپ اپنے مخلص احباب کی تکالیف کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھ سکتے تھے اور اندیشہ ہوتا تھا کہ اگر آپ اس موقعہ تکلیف پر پہنچ جاویں تو طبیعت بگڑ نہ جاوے۔اس لئے بعض اوقات عیادت کے لئے خود نہ جاتے اور دوسرے ذریعہ سے عیادت کرلیتے یعنی ڈاکٹر وغیرہ کے ذریعہ سے حالات دریافت کر لیتے اور مریض کے عزیزوں رشتہ داروں کے ذریعہ سے تسلی دیتے اور ایسا ہوا کہ اپنی اس رقت قلبی کا اظہار بھی بعض اوقات فرمایا۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه (186 تو دیکھیں باوجود بے انتہا معمور الاوقات ہونے کے کسی کی عیادت یا ہمدردی کیلئے جانے پر اس لئے انکار نہیں فرمار ہے کہ وقت نہیں ہے، مصروفیت ہے ، بلکہ اس لئے کہ مخلوق کی ہمدردی اور اس کی تکلیف کا خیال کر کے آپ کی اپنی طبیعت خراب ہو جایا کرتی تھی۔اور یہ سراسر رحمت تھی جس سے آپ کا دل بھرا ہوا تھا۔اس کا اظہار ایک خط کے ذریعہ سے بھی ہوتا ہے جو آپ نے اپنے ایک مرید کی بیماری کے دوران لکھا۔اس کے متعلق عرفانی صاحب لکھتے ہیں کہ مرحوم ایوب صادق صاحب ایک نہایت مخلص اور پر جوش احمدی تھے۔