خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 41
خطبات مسرور جلد پنجم 41 خطبہ جمعہ 26 جنوری 2007 ء تعریفیں اس اللہ جل شانہ کے لئے ہیں جس نے اسے دوزخ کی آگ سے بچالیا۔(بخاری کتاب الجنائز باب اذا اسلم الصبى فمات ، هل يصلى عليه۔۔۔۔۔حدیث نمبر (1356 آپ علیہ جو رحم کے جذبہ سے سرشار تھے یہ برادشت نہ کر سکے کہ ایک شخص جو میری خدمت کرتا رہا ہے، اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نیچے آئے۔اس مرتے ہوئے شخص نے مسلمانوں کی تعداد تو نہیں بڑھائی تھی ، نہ کسی اور مقصد کے لئے اس کا استعمال ہونا تھا۔جب تک یہ آپ کا خادم رہا، آپ تبلیغ ضرور کرتے رہے لیکن زور نہیں دیا۔یہودی ہی رہا۔جب مرنے لگا تو خالصہ اس کی عاقبت سنوارنے کے لئے اسلام کا پیغام پہنچایا اور پھر قبول کرنے پر خوشی بھی محسوس کی۔اب ہمارے جو معترضین ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ اسلام ختی سے پھیلا ، تلوار سے پھیلا اور آنحضرت علی الا اللہ نے بھی اس کی تعلیم دی، وہ سوائے اس کے کہ اعتراض کرنے والے ہیں اور کچھ اس کا جواب نہیں دے سکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بے شمار مثالیں ہیں جہاں کبھی بھی تشد داور سختی کا ذکر نہیں ملتا۔آپ کی محبت و شفقت سے ہی لوگوں نے اسلام قبول کیا۔لیکن جب آنکھیں اندھی ہو جائیں ، دلوں پر پردے پڑ جائیں تو لوگوں کا حال یہی ہوتا ہے۔بچوں سے پیار کا آپ کا اسوہ کیا تھا؟ پہلے بھی میں بیان کر آیا ہوں۔روایت میں آتا ہے حضرت اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی ایک ران پر بٹھاتے اور حسن کو دوسری ران پر اور ہم دونوں کو اپنے ساتھ چمٹا کر دعا کرتے کہ اے اللہ ! میں ان دونوں پر رحم کرتا ہوں تو بھی ان دونوں پر رحم کا سلوک فرما۔(بخاری کتاب الادب باب وضع الصبى على الفخذ حديث نمبر (6003 یہ تھیں چند مثالیں جو میں نے دیں۔آپ نے اپنے ماننے والوں کو رحمن خدا کی پہچان کروائی ، ان کو مختلف طریقوں سے توجہ دلائی کہ کس طرح رحمن خدا کا قرب حاصل کرو۔کس طرح اس کی رحمانیت سے حصہ لو۔کس طرح اس کی رحمانیت سے حصہ لینے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ رحم کا سلوک کرو۔اپنے اُسوہ سے ایسے نمونے قائم فرمائے جس کو دیکھ کر ماننے والوں کو رحمن خدا کا صحیح فہم و ادراک حاصل ہوا۔گویا جب رحمن خدا نے آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا تو آپ نے اپنی تعلیم سے بھی اور اپنے اسوہ سے بھی اس کا حق ادا کر دیا۔اور صرف اس ایک صفت میں نہیں بلکہ باقی تمام صفات میں بھی آپ نے کمال حاصل کیا۔لیکن اللہ تعالیٰ کا خوف اس قد رتھا کہ ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ عبید اللہ نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو اس کا عمل نجات نہ دے گا۔صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا آپ کو بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ نے فرمایا : ہاں مجھے بھی نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ اپنی رحمت کے ذریعے مجھے ڈھانپ لے۔(بخاری كتاب الرقاق باب القصد والمداومة على العمل۔حدیث نمبر (6463)