خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 40
خطبات مسرور جلد پنجم 40 خطبہ جمعہ 26 جنوری 2007 ء تو بچپن سے ہی اس کشفی نظارے سے آنحضرت علی یا اللہ میں اللہ تعالیٰ نے رحم کے جذبات بھر دیئے تھے۔جو پھر آہستہ آہستہ مزید نکھرتے گئے اور نبوت کے بعد تو وہ کمال کو پہنچ گئے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ سے زیادہ گھر والوں سے رحم کا سلوک کرنے والا کبھی کوئی نہیں دیکھا۔صلى الله (صحیح مسلم کتاب الفضائل باب رحمته الله الصبيان والعيال حدیث نمبر (5920 پھر ایک روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم علی الاسلام سے کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول ! مشرکین کے لئے بد دعا کریں۔آپ نے فرمایا میں لعنت کرنے والا بنا کر مبعوث نہیں کیا گیا۔میں تو سراپا رحمت بنا کر مبعوث کیا گیا ہوں۔(صحیح مسلم کتاب البر والصلة باب النهي عن لعن الدواب وغيرها حديث نمبر (6508 جو پہلی مثال میں نے دی تھی کہ کسی نے آ کر جب یہ کہا کہ فلاں پر لعنت کریں تو اس کا جو جواب آپ نے دیا تھا۔وہ ہم نے دیکھا کہ دعا دی۔یہاں مشرکین پر لعنت کے لئے عرض کیا جا رہا ہے تو پھر بھی آپ فرما رہے ہیں کہ میں لعنت کرنے والا بنا کر مبعوث نہیں کیا گیا۔کاش کہ آج اُمت مسلمہ بھی اس رحمۃ للعالمین کے اسوہ کو اپنانے کی کوشش کرے اور لعنتوں سے اور پھٹکاروں سے اور لڑائیوں سے اور ظلموں سے بچتے ہوئے اور اپنی اصلاح کرتے ہوئے ہر ایک سے رحمت کا سلوک کرنے والی ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کے انعاموں کی وارث بنے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ طفیل بن عمر والڈ وسی اور ان کے ساتھی نبی کریم عیب اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور عرض کیا یا رسول اللہ ! دوس قبیلے نے اسلام کی دعوت کا انکار کر دیا ہے اس لئے آپ ان کے خلاف بد دعا کریں۔کسی نے کہا اب تو دوس قبیلہ ہلاک ہو گیا۔نبی کریم علی اللہ نے اس طرح دعا دی کہ اے اللہ ! تو دوس قبیلے کو ہدایت دے اور ان کو لے آ “۔(بخارى كتاب الجهاد والسير باب الدعا للمشركين بالهدى ليتألفهم حديث نمبر (2937 ہر ایک کے لئے آپ کا جذبہ رحم یہ تھا۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا آنحضرت علی اللہ کا خادم تھا۔وہ بیمار ہو گیا۔آنحضرت عیب اللہ اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اس کے سرہانے بیٹھ کر حال احوال پوچھا اور اسلام قبول کرنے کی تحریک فرمائی۔لڑکے نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو پاس ہی بیٹھا ہوا تھا۔اس کے باپ نے کہا ابوالقاسم کی بات مان لو۔چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔حضور خوش خوش وہاں سے یہ کہتے ہوئے واپس آئے۔سب