خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 493
خطبات مسرور جلد پنجم 493 خطبہ جمعہ 07 دسمبر 2007ء ہوئے ہیں اور ضالین کے تلفظ پر مرمٹے ہیں۔کہ ضالين کس طرح کہنا ہے۔" قرآن شریف کی طرف بالکل توجہ ہی نہیں اور ہو کیونکر جبکہ وہ تزکیہ نفس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے“۔(ملفوظات جلد اوّل صفحه 282-283 جدید ایڈیشن) | تو آپ نے فرمایا کہ جونئی روشنی کے چاہنے والے ہیں وہ بھی تقویٰ سے عاری ہیں اور جو اپنے آپ کو عالم سمجھتے ہیں وہ بھی تقوی سے عاری ہیں اور جب تک تقوی نہ ہو قر آنی علوم حاصل نہیں ہوتے۔پھر اس کے معنی کے لحاظ سے میں آگے چلتا ہوں۔مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ حکمت کا مطلب علم اور عقل کی مدد سے حق بات تک پہنچ جاتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کے صاحب حکمت ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس کی اشیاء کے بارہ میں معرفت اور ان کو غایت درجہ تک تکمیل اور عمدگی کا حامل بنا کر وجود میں لانا۔یعنی اللہ تعالیٰ کی کسی بھی چیز اور اس کی تکمیل کے بارے میں جو معرفت ہے اس کو عمدگی کا حامل بنا کر وجود میں لانا ، کوئی اس میں نقص نہ رہنے دینا۔اور انسان کے صاحب حکمت ہونے سے مراد ہے، ان وجود میں لائی گئی اشیاء کی معرفت حاصل کر لینا اور بھلائی کے کام کرنا۔اللہ تعالیٰ کی پیدائش کے بارے میں معرفت حاصل کرنا علم حاصل کرنا۔تو دنیاوی علم حاصل کرنا بھی جو کہلاتا ہے وہ منع نہیں ہے۔قرآن کریم میں اس کی طرف رہنمائی بھی فرمائی گئی ہے۔لیکن تقوی سے عاری ہو کر صرف اسی کو سب کچھ سمجھنا اور دین کا خانہ خالی رکھنا ، یہ چیز حکمت سے عاری ہے۔پھر کہتے ہیں کہ جب اللہ کے بارہ میں کہا جائے کہ وہ حکیم ہے تو اس سے وہ معانی مراد نہیں ہوتے جو معانی کسی انسان کو حکیم کہنے سے ہوتے ہیں۔اسی مفہوم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الیس اللهُ بِأَحْكَمِ الْحَكِمِينَ (التين : 09) کہ اللہ تعالی سب حاکموں سے بڑھ کر حا کم ہے، یہ بھی اسی لفظ سے نکلا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مختلف لغات کے حوالے سے حکمت اور حکیم کے مختلف معنی بیان فرمائے ہیں۔الْحَکیم کا ایک معنی عالم کا ہے۔پھر ایک معنی صَاحِبُ الْحِكْمَة کے ہیں ( حکمت والا )۔ایک معنی تمام کاموں کو اچھی طرح کرنے والا۔جس کے کاموں کو کوئی بگاڑ نہ سکے۔اور حکمت کے معنے ہیں، عدل ، علم، حلم یعنی دانائی۔پھر ایک معنی ہیں ہر وہ بات جو جہالت سے روکے، ہر وہ کلام جو سچائی کے موافق ہو۔بعض کے نزدیک اس کے معانى وَضْعُ الشَّيْ ءٍ فِی مَوْضِعِہ کے ہیں۔یعنی ہر امر کو اس کے مناسب حال طور پر استعمال کرنا۔نیز اس کے ایک معنی صَوَابُ الْامْرِ وَسِدَادُهُ۔بات کی حقیقت اور اس کا مغز حکم جو حکیم کا مادہ ہے، اس کے معانی ہیں۔اصلاح کی خاطر کسی کو کام سے روکنا اور اسی وجہ سے جانور کی لگام کو حَكَمَة کہتے ہیں۔تفسیر کی کتاب روح المعانی میں آیت قَالُوا سُبحَنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيمُ (البقرة: 33) کی علامہ محمود آلوسی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہاں فرشتوں نے علم کو بکمالہ اللہ تعالیٰ کی