خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 489
خطبات مسرور جلد پنجم 489 خطبہ جمعہ 23 /نومبر 2007ء پر پرندے پیدا کرنا۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ انسان یا جو بھی اس کے مقابلے پر شریک کھڑے کئے جائیں ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے، کجا یہ کہ تم کہتے ہو کہ فلاں انسان نے زندہ پرندے بنا کر پیدا کر دیئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک واقعہ لکھا ہے۔( یہ لطیفہ ہی ہے ) کہ ایک دفعہ ایک مولوی صاحب سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا کہ مسیح نے پرندے پیدا کئے ہیں اور ہوا میں جو پرندے اڑ رہے ہیں ان میں سے کچھ مسیح نے پیدا کئے ہوں گے کچھ خدا تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں۔تو آپ ان میں کوئی فرق کر کے دکھا سکتے ہیں؟ جن سے پتہ لگے کہ مسیح کے پیدا کردہ پرندے کون سے ہیں اور خدا تعالیٰ کے پیدا ہونے والے پرندے کون سے ہیں۔تو مولوی صاحب پنجابی میں کہنے لگے۔اے تے ہن مشکل اے اور دونوں رل مل گئے نہیں“۔(تفسیر کبیر جلد 3 صفحہ 406 ) کہ اب تو یہ بہت مشکل بات ہو گئی ہے کیونکہ جو مسیح نے پرندے پیدا کئے تھے اور جو اللہ تعالیٰ نے پرندے پیدا کئے تھے اب دونوں اس طرح مل گئے ہیں کہ ان کی پہچان مشکل ہے۔یہاں بیٹھے ہوئے ہوا میں پہچانے نہیں جا سکتے کہ کون کس کا پیدا کیا ہوا ہے۔تو یہ حال ہے ہمارے بعض علماء کا جن کے پیچھے چل کر بعض معصوم لوگ اپنے ایمان کو بھی خراب کرتے ہیں۔پس احمدی کو اس واحد خدا کی طرف ہمیشہ جھکنا چاہئے جو سب طاقتوں کا سر چشمہ ہے۔ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔کوئی نہیں جو اس کی طاقتوں کا مقابلہ کر سکے اور یہی خدا کی بادشاہت دلوں میں پیدا کرنے کا طریق ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الجاثية : 38) اور اسی کی ہے ہر بڑائی آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور وہی کامل غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔پس اس خدا کے سامنے ہمارا ہر وقت سر جھکے رہنا چاہئے۔ہر قسم کے شرک سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس معبود حقیقی کے آگے ہمیں جھکنا چاہئے کہ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔وہی ہے جو تمام طاقتوں کا سر چشمہ ہے۔عزیز خدا ہے، حکیم خدا ہے جس کے ساتھ وابستہ رہ کر غلبہ عطا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ”ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے، ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے۔اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔کس دف سے میں بازاروں میں مُنادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں۔اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19صفحه 21-22 )