خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 488
488 خطبہ جمعہ 23 /نومبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم کہ شرک کر کے آگ کے عذاب میں پڑے؟ وہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا فہم و ادراک عطا فر ما دیا کیا وہ یہ سوچ سکتا ہے کہ ان لوگوں کی باتیں سن کر آگ کا عذاب سہیڑے؟ بجائے اس کے کہ جو اونچی چوٹیاں ہیں ، نیکیوں کی تلاش ہے ان کو حاصل کرے۔پھر اللہ تعالیٰ سورۃ الحج میں فرماتا ہے مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (الحج: 75) انہوں نے اللہ کی ایسی قدر نہیں کی جیسا اس کی قدر کا حق تھا۔یقینا اللہ تعالیٰ بہت طاقتور اور کامل غلبہ والا ہے۔یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طاقتوں کو اپنی طاقتوں پر قیاس نہ کرو۔اور اپنی طاقتوں پر قیاس کرتے ہوئے یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کی طاقتیں بھی محدود ہیں۔وہ قومی ہے۔عزیز ہے اور اس کی طاقتیں لامحدود ہیں۔تم کو اس کی طاقتوں کا اندازہ نہیں ہے۔اس لئے شریک ٹھہراتے ہو۔تو یا درکھو اللہ تعالیٰ تو بہت طاقت والا ہے۔اس کی قوتوں کا اندازہ انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔اگر عقل کا صحیح استعمال ہوا اور زمین اور آسمان کی پیدائش پر ہی غور کرو تو اندازہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کیا کیا عجائبات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت اور اس سے پہلی آیت کو جوڑ کر اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ معبودوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ۔وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذَّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنْقِدُوهُ مِنْهُ، ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ۔إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (الحج : 74-75) کہ جن لوگوں کو تم خدا بنائے بیٹھے ہو، وہ تو ایسے ہیں کہ اگر سب مل کر ایک مکھی پیدا کرنا چاہیں تو کبھی پیدا نہ کر سکیں اگر چہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔بلکہ اگر مکھی ان کی چیز چھین کر لے جائے تو انہیں طاقت نہیں ہوگی کہ وہ کبھی سے چیز واپس لے سکیں۔ان کے پرستار عقل کے کمزور اور وہ طاقت کے کمزور ہیں۔کیا خدا ایسے ہوا کرتے ہیں؟ خدا تو وہ ہے کہ سب قوتوں والوں سے زیادہ قوت والا اور سب پر غالب آنے والا ہے۔نہ اس کو کوئی پکڑ سکے اور نہ مار سکے۔ایسی غلطیوں میں جو لوگ پڑتے ہیں وہ خدا کی قدر نہیں پہچانتے اور نہیں جانتے خدا کیسا ہونا چاہئے۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحه 374-375 | جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ خدا کی حقیقی صفات کا ادراک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے احمدیوں میں پیدا کیا ہے۔دوسرے اس تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔دوسرے مسلمان آج کل با وجود آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کے، اللہ تعالیٰ کی صفات کا حقیقی ادراک نہیں رکھتے۔اللہ تعالیٰ کو عزیز ماننے کے باوجود، سب قدرتوں کا مالک ماننے کے با وجود بعض ایسے نظریات رکھتے ہیں جن سے لاشعوری طور پر خدا کے شرک کا اظہار ہوتا ہے۔مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر بیٹھنا سمجھنا۔ابھی بہت بڑا طبقہ اس نظریے پر قائم ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کا ظاہری طور