خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 482
482 خطبات مسر در جلد پنجم پس فرماتا ہے کہ میرے بندے اور مجھے معبود سمجھنے والے وہی لوگ ہیں جو میری تعلیم اور میرے احکامات پر عمل کرنے والے ہیں۔وہ احکامات جو میں نے انبیاء کے ذریعہ سے نازل فرمائے اور جن کی انتہا آنحضرت ﷺ پر آخری شرعی کتاب قرآن کریم کی صورت میں ہوئی۔اب کوئی احکامات لانے والا نہیں مگر وہی جو آنحضرت ﷺ کی پیروی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے۔پس اس تعلیم کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی غلامی میں بھیجا تا کہ دنیا کو معبود حقیقی کی پہچان کروائیں۔خدا میں اور اس کی مخلوق میں جو دُوری پیدا ہو گئی ہے، جو فاصلے بڑھ گئے ہیں اور بڑھتے چلے جا رہے ہیں، ان کو ختم کر کے اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان حقیقی تعلق قائم کریں۔اب ہم میں سے ہر ایک کا یہی کام ہے کہ اس مشن کو آگے بڑھائے تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنے والے کہلا سکیں گے تبھی ہم خدا تعالیٰ کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنے کی کوشش کرنے والوں میں شمار ہوسکیں گے۔خدا تعالیٰ تو زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اس کا خالق ہے۔وہ عزیز ہے۔وہ مالک ہے۔پہلے بھی میں بتا چکا ہوں۔ہر چیز پر قادر ہے۔جب چاہے اور جس پر چاہے غلبہ پاسکتا ہے۔پھر اس کو ہماری جو ہم عاجز بندے ہیں، ان کی اپنی بادشاہت کے قیام کے لئے مدد کی کیا ضرورت تھی۔بادشاہت تو پہلے ہی اسی کی ہے۔تو جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بندے کو ایک اختیار دیا ہے کہ یہ اچھا ہے، یہ بُرا ہے اور مجھے معبود حقیقی سمجھنے والے ہمیشہ میری عبادت کرنے والے ہیں۔نیکیاں کرنے والے ہیں۔تقویٰ پر قائم رہنے والے ہیں اور آگے ان باتوں کو دنیا میں پھیلانے والے ہیں۔اور جب بندے یہ عمل کر رہے ہوں گے تو خدا تعالیٰ کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنے والے بن رہے ہوں گے اور اس کے بدلے میں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بہترین جزا پانے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری جنتوں کے وارث ہوں گے۔اس کے مقابلے میں شرک کرنے والے، خدا کے مقابلے میں غیر اللہ کے پیچھے چلنے والے، سزا پانے والے لوگ ہیں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی ضرورت نہیں بلکہ بندے کی ضرورت ہے کہ معبود حقیقی کا صحیح ادراک اپنے اندر پیدا کرے اور اس کی رضا کی جنتوں کو حاصل کرنے والا بنے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو اس غرض کے لئے بھیجتا ہے تا کہ اُن کے ذریعہ سے معبود حقیقی ہونے کا پتہ دے۔وہ انبیاء اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والے اور اس کے پیغام کو پہنچانے والے ہوتے ہیں اور جوان انبیاء کے مخالفین ہوتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوؤں پر ظلم و تعدی کرتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے عزیز ہونے کا جلوہ دکھاتے ہوئے اپنے انبیاء کی مدد کرتا ہے، انہیں غالب فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ اپنے معبود حقیقی ہونے کا ذکر فرمایا ہے کہ میں اپنے انبیاء کے مخالفین کو ان کی جماعتوں کے مخالفین کو، ان لوگوں کو جو میری صحیح رنگ میں عبادت کرنے والے ہیں ، میرے پیغام کو سمجھنے والے