خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 481 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 481

خطبات مسرور جلد پنجم 481 48 خطبہ جمعہ 23 /نومبر 2007ء فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2007ء بمطابق 30 رنبوت 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح،لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیت تلاوت فرمائی شَهِدَ اللهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَئِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (آل عمران : 19) جماعت احمدیہ کے قیام کا مقصد نیکی اور تقویٰ اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا ادراک اپنے اندر پیدا کرنا ، اس کے قیام کے لئے عملی تصویر بنا اور دنیا میں بھی اس کو قائم کرنا ہے۔اُس خدا کی بادشاہت دنیا میں قائم کرنا ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔اس کی بے شمار مخلوق اس زمین میں ہی ہے اور یہ زمین کا ئنات کا اتنا معمولی حصہ ہے کہ اس کی حیثیت ایک نقطے سے زیادہ نہیں ہے۔پس ہم جو انسان کہلاتے ہیں اور بعض بڑے فخر اور تکبر سے زمین پر چل رہے ہوتے ہیں ، ان کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اُس نے اس بے حیثیتی کے باوجود ہمیں اشرف المخلوقات ہونے کا مقام دیا ہے اور ہمارے سپرد بعض کام کئے ہیں اور ہماری پیدائش کی ایک غرض یہ بتائی ہے کہ اس کا ہم نے عابد بننا ہے۔لیکن دنیا کی اکثریت اس غرض پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ دنیا کی لہو ولعب نے ، اس کھیل کو د نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔شیطان نے اسے اپنے جال میں پھنسا لیا ہے۔لیکن وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پر ایمان لانے والے ہیں، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والے ہیں، وہ اس غرض کو یا در رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جو تمام قدرتوں کا مالک ہے، غالب ہے، جس نے زمین و آسمان پیدا کیا ہے، خالق ہے، بے شمار قسم کی مخلوق اس زمین پر اُس نے پیدا کر دی ہے۔اُس کو اس زمین پر اپنی عبادت کروانے اور اپنی بادشاہت کے قیام کے لئے کسی انسان کی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔لیکن اس نے اپنے بندوں کو عقل و شعور دے کر اس طرف توجہ دلائی کہ میں نے تمہیں اس عقل و شعور کے ساتھ یہ آزادی بھی دے دی ہے کہ میرے انبیاء جو تعلیم میری طرف سے لے کر آئیں ان پر ایمان لا دیا انکار کر دو۔یہ تمہاری آزادی ہے۔اگر عقل اور علم کا صحیح استعمال کرو گے تو ایمان لانے والے اور اس تعلیم پر عمل کرنے والے ہو گے۔تو پھر میں تمہیں ان لوگوں میں شمار کروں گا جو میری بادشاہت کے قائم کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں۔جو انکار کریں گے ان کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جو شیطان کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔