خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 474 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 474

474 خطبہ جمعہ 23 /نومبر 2007ء خطبات مسر در جلد پنجم غصے میں بھی نہیں بنایا گیا۔اتنے ہوش و حواس ان کے قائم رہے کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے والی جو شقیں ہیں وہ قائم رہیں گی ، ان کو نہیں چھیڑا گیا۔خاص طور پر اناؤنس کیا گیا کہ وہ قائم ہیں۔تو آج کل چاہے وہ حکمران ہیں یا سیاستدان ہیں یا کوئی بھی ہے خدا سے زیادہ ان کو خوف ان لوگوں کا ہے جو مذ ہب کے نام پر فساد پیدا کرتے ہیں اور ہر حکومت انہیں خوش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔پس جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی کہا تھا کہ ملک کے لئے دعائیں کریں اور دعاؤں کے ساتھ جو پاکستان میں رہنے والے احمدی ہیں، کسی کو بھی کسی بھی طرح کسی بھی شکل میں ان فسادوں میں حصہ دار نہیں بننا چاہئے۔با وجود اس کے کہ ہم پر زیادتیاں ہوتی ہیں اور ہورہی ہیں اور آئندہ بھی ہوں گی ، ہم نے قانون کی پابندی کرنی ہے اور وقت کی حکومت کے خلاف کسی قسم کا بھی جو فساد ہے اس میں حصہ نہیں لینا۔ہمارا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ہاں یہ ضرور ہے اور جس حد تک ہو سکے یہ کرنا چاہئے کہ اپنے اپنے حلقے میں، اپنے دائرے میں ان لوگوں کو یہ بتانا چاہئے کہ سوچو، غور کرو کہ یہ سب کچھ جو ہورہا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں دخل اندازی کی وجہ سے تو نہیں ہو رہا؟۔یہ ہلکے ہلکے جو جھٹکے دیئے جا رہے ہیں یہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے تو نہیں؟ اب غیر لکھنے والے بھی لکھنے لگ گئے ہیں۔(غیر سے مراد جو احمدی نہیں ہیں ان کے اپنے لوگ) اور کہنے والے یہ کہنے لگ گئے ہیں، اخباروں میں بھی آتا ہے، اور جگہ بھی بیانات آتے ہیں، گزشتہ کسی خطبہ میں کچھ بیان پڑھ کر بھی سنائے تھے کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے یہ خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے کی وجہ سے ہے۔لیکن ان کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ خدا تعالیٰ کیوں ناراض ہو رہا ہے ؟ غور کریں کہ کیوں ناراض ہو رہا ہے۔ایک دعویٰ کرنے والے نے یہ اعلان کیا تھا کہ خدا میری تائید میں نشانات دکھائے گا۔ان نشانوں کو دیکھو اور غور کرو اور خدا کے بھیجے ہوئے کے انکار سے باز آؤ۔اللہ تعالیٰ ظالم کو نہیں چھوڑتا۔دنیا کے نمونے ہمارے سامنے ہیں۔پاکستان میں صرف ظالمانہ قانون ہی اسمبلی نے پاس نہیں کیا بلکہ اس وجہ سے کئی احمدی صرف اس لئے شہید کئے گئے اور آج تک کئے جارہے ہیں کہ وہ احمدی ہیں، وہ زمانے کے امام کو ماننے والے ہیں۔اس قانون نے جرات دلائی ہے کہ ظالم اپنے ظلموں پر بڑھتا چلا جارہا ہے۔گواب حکومت نے ، عدالت نے بعض جگہ ایسے ظالموں کو ایک دو کیسز میں سزائیں بھی دی ہیں لیکن جب تک ظالمانہ قانون قائم ہے جو حکومت بھی آئے گی وہ ان ظلموں میں برابر کی شریک ہوگی۔بہر حال ہم نے ان دنیا والوں سے تو کچھ نہیں لینا لیکن ہمدردی کے جذبات سے اور یہ بات کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے ، ہم حکومت کو بھی اور عوام کو بھی توجہ دلاتے ہیں کہ اگر امن قائم کرنا ہے اور خدا کی پکڑ سے باہر آنا ہے تو انصاف کے تقاضے پورے کرو۔