خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 473
473 خطبات مسرور جلد پنجم ہے، حکومت کے سامنے سب کچھ کرتا رہا بلکہ اسے حکومت کی مدد بھی حاصل رہی اور جب وہ زور پکڑ گیا اور بغاوت پر آمادہ ہو گیا تو اب حکومت وہاں فوج کا استعمال کر رہی ہے۔فوج ملک کے اندر امن و امان قائم کرنے کے لئے استعمال ہورہی ہے۔باہر کے دشمن سے تو کوئی خطرہ نہیں، اندر کا دشمن جو سب سے زیادہ خطر ناک ہے وہ ملک کو تباہ کرنے کی کوشش میں ہے اور فوج کا کام اب اس کو کنٹرول کرنا رہ گیا ہے۔74ء میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے والے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے والے جو یہ کہتے تھے کہ ربوہ میں احمدیوں نے اپنی حکومت قائم کی ہے۔اب یہ بتائیں کہ احمدیوں نے اپنی حکومت قائم کی ہوئی تھی یا اب مختلف جگہوں پر ملک کے اندر حکومتیں قائم ہو چکی ہیں۔بعض جگہ تو حکومت بالکل بے بس نظر آتی ہے۔احمدی تو قانون کی پابندی کرنے والے ہیں، ہمیشہ رہے ہیں، اور رہیں گے انشاء اللہ۔انہوں نے تو قانون کے احترام میں اپنی ملکیتی زمین جو دار النصر میں دریا کی طرف، دریا کے قریب ، ربوہ کی زمین تھی وہاں پر قبضہ کرنے والوں سے لڑائی کی بجائے قانون کا سہارا لیا۔لیکن قانون وہی ہے کہ طاقت والے سے ڈرو اور طاقت والے کے کام کرو۔ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ تو کر دیا کہ اس وقت تک کوئی فریق اس پر کسی قسم کا تصرف نہیں کر سکتا، کوئی تعمیر نہیں کر سکتا جب تک کورٹ فیصلہ نہ کرے۔لیکن آج 30-32 سال کے بعد بھی کورٹ کو فیصلہ کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔احمدی تو اس حکم کی پابندی کر رہے ہیں۔لیکن دوسرا فریق جو اسلام کے نام پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کا گروپ ہے تعمیر پر تعمیر کرتا چلا جارہا ہے اور جب ہائی کورٹ کو کہو کہ یہ ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور یہ ہتک عدالت ہے تو کورٹ کا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہتک ہماری ہو رہی ہے، تمہیں کیا فرق پڑتا ہے۔بالکل دوہرے معیار ان کے حکموں اور فیصلوں کے ہو گئے ہیں۔کہنے کو عدلیہ بڑی انصاف پسند ہے۔غرض کہ ہر طبقہ ، ہر محکمہ، کرپشن کے جو اعلیٰ ترین معیار ہیں ان کو چھو رہا ہے۔نیکی کے معیار حاصل نہیں کر رہے، برائیوں کے معیار حاصل کرنے کی طرف دوڑ لگی ہوئی ہے اور اس کی وجہ وہی ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایمانی حالتیں انتہائی کمزور ہوگئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے۔پس آج کل تو لگتا ہے کہ ان نام نہاد اسلام کے ٹھیکے داروں کا ایمان دنیا اور اس کے جاہ و مراتب ہیں۔یہ سارے فساد جو ملک میں ہورہے ہیں اور آفات بھی جو آ رہی ہیں ، اگر غور کریں تو اس کا سبب زمانے کے امام کا نہ صرف انکار بلکہ اس کا استہزاء اور اس کے ماننے والوں پر ظلم ہے۔اب ایمر جنسی پاکستان میں نافذ ہوئی تو فورا ساتھ ہی دستور کو بھی کا لعدم قرار دے دیا۔یہ علیحدہ بحث ہے کہ اختیار ہے یا نہیں یا اس کی کیا قانونی اور آئینی حیثیت ہے لیکن جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ملک میں یہی ہوتا آیا ہے۔انہوں نے ایمر جنسی بنائی اور دستور کو کالعدم کر دیا۔لیکن یہ قانون اتنے جوش اور